وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ ترکیہ کے دوران توانائی،معدنیات،آئی ٹی کے شعبوں اور دفاع میں تعاون پر اتفاق دونوں ملکوں کے درمیان اخوت و یگانگت کے اٹوٹ رشتوں کا مظہر ہے۔وزیراعظم نے صدر طیب ایردوان سے ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس میں جن خیالات کا اظہار کیا ان سے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود پر جوش تعلقات میں مزید وسعت اور گہرائی آئی ہے۔وزیراعظم کا یہ دورہ کئی حوالوں سے خاص اہمیت کا حامل ہے جس میں اقتصادی تعاون وسیع کرنے کے علاوہ سٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔صدر ایردوان کی جانب سے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے،مشترکہ منصوبوں اور دو طرفہ سرمایہ کاری کے ذریعے پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے کلیدی کردار کی یقین دہانی نے پاکستانیوں کا اعتماد بڑھایا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں طے پانے والے سمجھوتوں پر ترکیہ میں عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔دونوں رہنماؤں نے 7ویں اعلی سطحی سٹریٹجک آپریشن کونسل کے فیصلوں کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لیا۔دونوں ممالک کے درمیان توانائی،کان کنی،دفاع،زرعی پیداوار کے مشترکہ منصوبوں،تجارت وعوامی تبادلوں کے فروغ،علاقائی اور دو طرفہ روابط میں اضافے،مصنوعی ذہانت اور سائبر سکیورٹی جیسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے حوالے سے تعاون کے مواقع اجاگر کیے۔غزہ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔وزیراعظم منگل کو دو روزہ دورے پر ترکیہ پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا صدر ایردوان نے ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔وزیراعظم نے کشمیر پر ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صدر ایردوان ایک وژنری لیڈر ہیں جن کی قیادت میں ترکیہ نے مثالی ترقی کی ہے۔انہوں نے 2010کے سیلاب میں پاکستان کا دورہ کر کے متاثرین سے بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔توقع کی جانی چاہئے کہ پاک ترکیہ تعلقات میں ہونے والی نئی پیش رفت دونوں ملکوں کے لیے فائدہ مند ہو گی۔
باتوں سے سیاسی لیڈروں کیکتنا ہی اثر پڑے کسی پر قائم کوئی اعتبار ہونا موقوف ہے کارکردگی پر
لوڈشیڈنگ……مبشر علی زیدیکیوبا میں بجلی کا شدید بحران ہے، میں نے بتایا۔کیوں بھئی؟ ڈوڈو نے حیران ہوکر...
’’کبھی اس بات میں شک نہ کریں کہ چند سوچنے سمجھنے والے، پرعزم شہریوں کا ایک چھوٹا سا گروپ دنیا کو بدل سکتا ہے:...
پہلے تو صرف ایک آستانہ عالیہ ہوتا تھا جہاں ایک اللہ کے ولی فالج لقوہ ، کالی کھانسی ،دائمی قبض ، گردوں کی...
59سال بعد اب متحدہ عرب امارات’’اوپیک‘‘ سے نکل چکا ہے۔ اس کے محرکات اور مضمرات پر روشنی ڈالنے سے قبل اوپیک کی...
افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کو روس اور چین حتیٰ کہ خود پاکستان بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتاتھا۔ پاکستان میں...
اگر پوری کائنات کو ایک عمارت تصور کر لیا جائے تو وہ ایک ہی ستون پر کھڑی ہے اور وہ ہے برداشت کا ستون۔ اگر اس...
ماسکو میں گزشتہ ہفتے روس اور افغانستان کے درمیان ہونے والے جس دفاعی معاہدے کی خبریں میڈیا میں ہر سطح پر گرم...