کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ʼʼکیپٹل ٹاکʼʼ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ صدر زرداری نے جوائنٹ پارلیمنٹ کے سیشن میں پوری دنیا کے سامنے کہا کہ صوبے اس پر راضی نہیں ہیں میں اس پراجیکٹ کو سپورٹ نہیں کرسکتا۔ عرفان صدیقی کو اس پر سیاست نہیں کرنی چاہئے جب بات اتنی واضح کردی گئی ہے،ہم جمہوری لوگ ہیں حکومت گرانا کسی کے فائدے میں نہیں ہے ۔ جو لوگ ہمیں مشورہ دے رہے ہیں کہ حکومت فوری چھوڑ دو وہ شاید یہ چاہتے ہیں کہ یہ کینال بن جائے،میزبان حامد میر نےاپنے تجزیئے میں کہا کہ چھ نہروں کا معاملہ سب چاہتے ہیں کہ معاملہ مذاکرات سے حل ہوجائے لیکن کیا اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو معاملہ حل ہوجائے گا؟وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ پری کنڈیشن یہ نہیں ہے کہ ہم بات نہیں کریں گے لیکن جو بھی بات کریں گے اسکا آئوٹ کم نہروں کا پروجیکٹ بند کرنے کا ہونا چاہیے ۔ ہم دو مہینے پہلے بات کرنے کو تیار تھے لیکن اس وقت جو ماحول سندھ میں بن گیا ہے وہ فیڈرل حکومت کے عمل کی وجہ سے ہے۔ڈیڑھ مہینے پہلے بلاول ملے تھے تو وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم چھوٹی سیٹنگ میں اس پر میٹنگ کریں گے۔پنجاب حکومت نے 218کی اسکیم بنائی ہے اور اس سال دس لاکھ اس میں رکھے گئے تھے اور وہ بھی سرینڈر کر دئیے ہیں کیوں کہ اپرو نہیں ہوا ہے تو کیسے بن سکتے ہیں۔ارسا کا اپرول سترہ جنوری 2024کو ہوا تھا نگراں حکومت نے الیکشن سے ایک دن پہلے میٹنگ کرتے ہیں اس میں چھ کینال کا منصوبہ لاتے ہیں ۔ ارسا کے سرٹیفکیٹ پر نگراں حکومت میں ایشو ہوا تھا ہم نے اس کو چیلنج کیا ہوا ہے اور جون سے یہ سی سی آئی میں کیس پڑا ہوا ہے آج اس کو دس مہینے سے اوپر ہوگئے ہیں اور اب کہنا کہ ہم سے بات کریں۔ وہ جو زبانی کلامی جو کہہ رہے ہیں وہ الگ بات ہے ارسا میں سرٹیفکیٹ کے لیے جو درخواست دی تھی اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ایوریج ہر سال ستائیس ایم اے پانی سمندر میں جارہا ہے شارٹیج اس وقت گیارہ ایم اے ہے انہوں نے نہیں کہا کہ ہم نہریں بہتر کر رہے ہیں یہ باتیں انہوں نے درخواست میں نہیں کہا ہے۔ ارسا کا سرٹیفکیٹ ویدھ ڈرا کریں اگر آپ کے پاس کوئی اور نمبرز موجود ہیں کہ ہم تیس فیصد پانی بچا لیں گے تو اس کی پرزنٹیشن سب کے سامنے رکھیں اور اپرو کرالیں۔ اگر رانا ثناء اللہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بہتر انتظام کر کے پانی بچا کر کریں گے تو ارسا سے پرانا سرٹیفیکٹ کینسل کرا کر نئی درخواست ڈالیں جس میں پانی کی بچت سے متعلق بتائیں جب کہ سرٹیفکیٹ میں ایسا کچھ نہیں کہا ہے۔