کینالز کے خلاف وکلا کا دھرنا جاری، سندھ اور پنجاب کو ملانے والی مرکزی شاہراہ بدستور بند

24 اپریل ، 2025

سکھر (بیورو رپورٹ) دریائے سندھ سے نئی کینالز نکالنے کیخلاف وکلاء کی جانب سے ببرلو بائی پاس قومی شاہراہ پر دیے جانیوالا دھرنا چھٹے دن بھی جاری رہا۔ سندھ اور پنجاب صوبوں کو آپس میں ملانے والی مرکزی شاہراہ بدستور بند ہے۔ ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہے۔ جس کے نظام و معمولات زندگی پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوگئے ہیں، کاروباری سرگرمیوں میں نمایاں کمی کے باعث دیہاڑ دار محنت کش مزدور طبقہ کی اکثریت یومیہ اجرت سے محروم ہوگئی ہے۔ کھانے و پینے کی اشیاء سمیت دیگر روز مرہ استعمال میں آنیوالی چیزوں کی قلت پیدا ہوگئی ہے، دھرنے کے سبب قومی شاہراہ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جن میں مال بردار گاڑیاں بھی شامل ہیں، مویشیوں سمیت پھل، فروٹ اور مختلف اقسام کی اجناس ودیگر سامان موجود ہے، مویشیوں کو وقت پر چارہ پانی نہ ملنے سے ان کی ہلاکتوں کے خدشات بڑھ گئے ہیں جبکہ مختلف گاڑیوں میں موجود سبزی و پھل فروٹ کی بڑی مقدار بھی سڑنے لگی ہے۔ دوسری جانب چھوٹے و بڑے شہروں میں کھانے و پینے کی اشیاء کی قلت نے سر اٹھالیا ہے، گوداموں میں بچا کھچا سامان مہنگے داموں فروخت ہورہا ہے، بیوپاری ہر چیز کے من مانے نرخ وصول کررہے ہیں جس سے عام شہریوں کو دہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ شہری و عوامی حلقوں نے ارباب اختیار و اقتدار سے اپیل کی ہے کہ افہام و تفہیم سے معاملات حل کریں، بند کئے گئے راستے کھلوائے جائیں تاکہ معمولات و نظام زندگی بحال ہوسکے۔ واضح رہے کہ کراچی بار کونسل کی قیادت میں وکلاء کا قافلہ 18اپریل جمعہ کو ببرلو بائی پاس پہنچا تھا اور تب سے تادم تحریر دھرنا جاری ہے۔