ہندوستان کےپاس معاہدہ منسوخ کرنے کا یکطرفہ اختیار نہیں، دفتر خارجہ

26 اپریل ، 2025

چکوٹھی(نمائندہ جنگ /ایجنسیاں)آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی سے ملحقہ لائن آف کنٹرول کے وادی لیپہ سیکٹر میں پاک بھارت افواج کے درمیان چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کا تبادلہ‘پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی کے بعد بھارتی گنیں خاموش ہو گئیںجبکہ ترجمان دفترخارجہ شفقت علی خان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے پاس سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنے کا کوئی یکطرفہ اختیار نہیں‘ادھر ایوان بالا نے انڈیا کے بے بنیادالزامات کو مستردکرتے ہوئے بھارت کی حالیہ جارحیت اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے جس میں کہا گیاہے کہ پاکستان پر کسی حملے کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا ۔تفصیلات کے مطابق ڈپٹی کمشنر جہلم ویلی سید اشفاق گیلانی نے غیر ملکی خبر رساں ادارہ کو بتایا کہ وادی لیپہ میں جمعرات اور جمعہ کی رات فائرنگ ہوئی‘ فائرنگ میںشہری آبادی محفوظ رہی‘پاک فوج کی موثر جوابی کارروائی کے بعد بھارتی گنیں خاموش ہو گئیں‘دریں اثناءوادی لیپہ میں جمعہ کی صبح سے زندگی معمول کے مطابق رواں ‘ تعلیمی ادارے بھی کھلے رہے‘دوسری طرف ضلع جہلم ویلی سے ملحقہ لائن آف کنٹرول چکوٹھی‘ کھلانہ ویلی‘پاہل،پانڈو سمیت دیگر ایل او سی پر بسنے والے علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ہم بھارتی گیدڑ بھبکیوںسے ڈرنے والے نہیں ہیں۔علاوہ ازیں جمعہ کو ہفتہ واربریفنگ میں ترجمان دفترخارجہ نے بتایاکہ بھارت کے پاس سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنے کا کوئی یک طرفہ اختیار نہیں‘اس معاملے پر سفارتی روابط ہو رہے ہیں تاہم ابھی کسی نے ثالثی کی پیشکش نہیں کی ‘جب پیشکش ہو گی تب ہم دیکھیں گے۔پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے تاہم ملکی خود مختاری پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے‘ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ایک واقعے پر بھارت فوری اوور ڈرائیو پر نکل گیا ہے‘بھارت نے پانی روکا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا‘ سندھ طاس معاہدہ ہماری لائف لائن ہے ۔مزیدبرآں ایوان بالا نے جمعہ کو بھارت کی حالیہ جارحیت اور یکطرفہ اقدامات کے خلاف متفقہ مذمتی قرارداد منظور کر لی ہے۔ یہ قرارداد نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایوان میں پیش کی جسے تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔قرارداد میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کے اعلان، سرحدی کشیدگی، اور اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کی گئی۔ ایوان نے واضح پیغام دیا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور پانی جیسے اہم وسائل پر کسی بھی دباؤ یا یکطرفہ فیصلے کو قبول نہیں کرے گا۔سینیٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں، بشمول اپوزیشن، نے قومی یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرارداد کی حمایت کی، جو ایوان میں مکمل اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔