سینئرکسٹمزافسران کا اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب ،بڑی کارروائی کی تیاری

26 اپریل ، 2025

پشاور(ارشد عزیز ملک)سینئرکسٹمزافسران کا اسمگلنگ نیٹ ورک بے نقاب‘بڑی کارروائی کی تیاری ‘افسران کو تین گروپوں میں تقسیم کیا گیا ہے‘ پہلی فہرست میں شامل افسر اسمگلنگ کی کارروائیوں میں براہ راست شریک یا سہولت کار ہیں‘ دوسرے جن کی محدود مداخلت تھی اور تیسرے جن کی ناقص نگرانی نے غیرقانونی سرگرمیوں کو ممکن بنایا‘ اسمگلنگ سے قومی خزانے کو ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ تین ارب ڈالر کا نقصان اور غیر قانونی تجارت کو فروغ ملا‘وزیراعظم انسپکشن کمیشن نے اپنی چونکا دینے والی رپورٹ وزیراعظم کو بھجوادی۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم انسپکشن کمیشن (PMIC) کی ایک چونکا دینے والی تحقیق نے پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ایک وسیع اسمگلنگ نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے جس میں سینئر کسٹمز افسران اور نجی افراد ملوث پائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں 12 افسران کے نام شامل ہیں جن میں افنان ، ایڈیشنل کلیکٹر (پشاور)؛ واجد ، ایڈیشنل کلیکٹر (اسلام آباد)؛ فیصل، ایڈیشنل کلیکٹر (ملتان)؛ اسامہ ، اسسٹنٹ کلیکٹر (اسلام آباد)؛ نعیم ، اسسٹنٹ کلیکٹر (سرگودھا)؛ مجتبیٰ ، سپرنٹنڈنٹ (فیصل آباد)؛ سکندر ، انسپکٹر (ڈیرہ غازی خان)؛ مشتاق، انسپکٹر (لاہور)؛ لیاقت ، انسپکٹر (ملتان)؛ وقاص ، انسپکٹر (ڈیرہ غازی خان)؛ اور بکر، یو ڈی سی (گلگت)شامل ہیں ۔ 10 افسر اور اہلکار محدود حد تک ملوث پائے گئےجن میں کلیکٹر سعود (ملتان)؛ انسپکٹر ضیاء (ملتان)؛ انسپکٹر محسن (ملتان)؛ انسپکٹر خالد (اسلام آباد)؛ انسپکٹر ارشد (اسلام آباد)؛ انسپکٹر جمیل؛ عتیق ، سپاہی (اسلام آباد)؛ اور سپاہی اکرام، عظمت، اور اسحاق (اسلام آباد)شامل ہیں ۔تیسری کیٹیگری کمزور نگرانی اور قیادت پر مبنی تھی جس میں چھ افسران شامل تھےجن میں کلیکٹززرمنزہ مجید، سید عمران سجاد بخاری، اور آصف ہرگن؛ مریم حق، ڈپٹی کلیکٹر (ملتان)؛ ضیغم، اسسٹنٹ کلیکٹر (ملتان)؛ اور علی رضا شاہ، انسپکٹرشامل ہیں ۔