ایٹمی جنگ کا خطرہ، پاک بھارت تنازع 3 ارب جانیں لے سکتا ہے

26 اپریل ، 2025

کراچی ( رفیق مانگٹ) بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ پہلگام حملے کے بعد دونوں ایٹمی طاقتوں کے تعلقات بدترین سطح پر ہیں ۔ برطانوی اخبار کی ایک رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایٹمی جنگ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ہوگی، جو 15 کروڑ فوری ہلاکتوں اور 3 ارب افراد کی بھوک سے موت کا باعث بن سکتی ہے ۔ بھارت اور پاکستان، جو 1974 اور 1998 کے ایٹمی تجربات کے بعد سے ایٹمی طاقتیں ہیں، مجموعی طور پر 300 ایٹمی وار ہیڈز رکھتے ہیں۔ جدید میزائل سسٹمز اور لڑاکا طیاروں سے لیس یہ ممالک ایک دوسرے کے لیے مسلسل خطرہ ہیں۔ یونیورسٹی آف کولوراڈو کے پروفیسر برائن ٹون کی تحقیق کے مطابق، دونوں ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ 5 سے 15 کروڑ افراد کی فوری ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے۔ شہر تباہ ہو جائیں گے، زخمیوں کو امداد نہ ملے گی، اور بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر منہدم ہو جائے گا۔ یہ تباہی جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہے گی۔ ایٹمی دھماکوں سے اٹھنے والا دھواں سورج کی 20 سے 40 فیصد شعاعوں کو روک دے گا، جس سے عالمی درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جائے گا۔ اس ایٹمی سردی سے زراعت تباہ ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں 1 سے 3 ارب افراد بھوک سے موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق اندازہ ہے کہ کینیڈا میں 95 سے 100 فیصد آبادی بھوک سے مر جائے گی۔ روس میں یہ شرح 75 سے 95 فیصد ہے، جبکہ چین میں بھوک سے مرنے والوں کا تناسب 50 فیصد اور امریکا میں 25 فیصد ہے۔یورپ بھر میں یہ تعداد مختلف ہوگی۔ پروفیسر ٹون نے خبردار کیا کہ بھارت اور پاکستان کے ایٹمی ہتھیار برفانی دور جیسے حالات پیدا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ صرف بھارت اور پاکستان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پوری دنیا کا بحران ہے۔