اسلام آباد (رانا غلام قادر) وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کو نسل کے اجلاس میں سندھ حکومت کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے وفاق نے 6نئی نہروں کی تعمیر روک دی ۔ ایکنک کی عارضی منظوری اور ارسا کا پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ واپس کردیا جائے گا، صوبوں میں اتفاق رائے کیلئے کمیٹی قائم کی جائے گی اور صوبوں کی مشاورت سے طویل مدتی زرعی اور آبی حکمت عملی تیار کی جائے گی ۔ اجلاس میں پہلگام حملے کے بعد بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی گئی۔وزیراعظم شہباز شریف نے قومی ہم آہنگی کے مفاد میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنانے اور باہمی مفاہمت تک پہنچنے تک تمام خدشات کو دور کر نے کی ہدایت بھی دی ۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف ، وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ‘ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ‘ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کینالز منصوبے کا معاملہ حل ہوگیا ، جب تک اتفاق رائے نہیں ہوتا کوئی نہر نہیں بنائی جائے گی ، کینال منصوبے سےمتعلق فیصلہ سی سی آئی نے کرنا تھا جو کردیا گیا ۔ ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے بھی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی صوبے کا حق کسی دوسرے کو نہیں کھانے دیں گے اور ہر صوبے کو اس کے حصےکا پانی دیا جائے گا، اب صوبے کو این ایف سی ایوارڈ ملے گا اور ہمیں ضم اضلاع کا حق دیا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق مشترکہ مفادات کو نسل نے پہلگام حملے کے بعد بھارتی یکطرفہ غیر قانونی اور غیر ذمہ دارانہ اقدامات کی بھرپور مذمت کی ہے جبکہ سندھ حکومت کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے چھ نئی نہروں کی تعمیر کو بھی روک دیا گیا ہے اور اسے سی سی آئی کے باہمی افہام وتفہیم سے مشروط کردیاگیا ہے۔یہ فیصلہ گزشتہ روزوزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا 52 واں اجلاس میں کیا گیا جو وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا ۔مشترکہ مفادات کونسل نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے ممکنہ بھارتی جارحیت اور مس ایڈونچر کے تناظر میں پورے ملک و قوم کے لئے اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیا۔ کونسل کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن اورذمہ دار ملک ہے لیکن ہم اپنا دفاع کرنا خوب جانتے ہیں۔ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں تمام صوبائی وزراء اعلیٰ نے بھارت کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف وفاقی حکومت کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ مشترکہ مفادات کونسل نے سینیٹ میں بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے خلاف قرارداد کی بھر پور پزیرائی کی ۔ مشترکہ مفادات کونسل نے نئی نہروں کے حوالے سےفیصلہ کیا ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل وفاقی حکومت کی پالیسی کی توثیق کرتی ہے جس کے مطا بق "وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سی سی آئی کی باہمی افہام و تفہیم کے بغیر کوئی نئی نہریں نہیں بنائی جائیں گی، یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ جب تک صوبوں میں باہمی افہام و تفہیم پیدا نہیں ہو جاتی، وفاقی حکومت آگے نہیں بڑھے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام صوبائی حکومتیںپاکستان بھر میں زرعی پالیسی اور پانی کے انتظام کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک طویل المدتی متفقہ روڈ میپ تیار کرنے کے لیے بات چیت کریں گی۔تمام صوبوں کے پانی کے حقوق کو پانی کی تقسیم کے معاہدے 1991 اور واٹر پالیسی 2018 میں یقینی بنایاگیا ہے جس پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا اتفاق رائے ہے۔تمام صوبوں کے تحفظات کو دور کرنے اور پاکستان کی خوراک اور ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جس میں وفاق اور تمام صوبوں کی نمائندگی ہو گی۔کمیٹی دو متفقہ دستاویزات کے ذریعےپاکستان کی طویل مدتی زرعی ضروریات اور تمام صوبوں کے پانی کے استعمال کے حل تجویز کرے گی۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پانی سب سے قیمتی اشیاء میں سے ایک ہے اور آئین کے بنانے والوں نے اس کو تسلیم کیا ہے۔ آئین پانی کے تمام تنازعات کو باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کرنے کا تقاضا کرتاہے اور کسی بھی صوبے کے خدشات کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان غور وخوض سے حل کیا جائے گا۔ مذکورہ بالا نکات کے پیش نظراور تفصیلی غور و خوض کے بعدکونسل نے فیصلہ کیا کہ نئی نہروں کی تعمیر کے لیے مورخہ 7 فروری 2024 کو ECNEC کی عارضی منظوری اور 17 جنوری 2024 کو اپنے اجلاس میں جاری کردہ IRSA پانی کی دستیابی کا سرٹیفکیٹ واپس کر دیا جائے گا۔ کو نسل نےپلاننگ ڈویژن اور IRSA کو ہدایت کی ہے کہ وہ قومی ہم آہنگی کے مفاد میں تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کو یقینی بنائیں اور باہمی مفاہمت تک پہنچنے تک کسی بھی اور تمام خدشات کو دور کریں۔اجلاس کو سی سی آئی سیکیریٹیریٹ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل کی مالی سال 2021-2022 ، مالی سال 2022-2023اور مالی سال 2023-2024کی رپورٹس پیش کی گئیں۔مشترکہ مفادات کونسل نے سی سی آئی سیکیریٹیریٹ ریکروٹمنٹ رولز کی منظوری دے دی۔اجلاس کو کابینہ ڈویژن کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کی سال 2020-2021, سال 2021-2022 ، سال 2022-2023 اور اسٹیٹ آف انڈسٹری کی سال 2021, 2022 اور 2023 کی رپورٹس پیش کی گئیں۔
اسلام آباد پاکستان مندوب نے نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن تنازعہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط...
کراچی وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی اُمور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی دھونس سے اپنا ہر...
کراچی صدرٹرمپ نے فوج کو مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی لانے کا حکم دے دیاہے، وائٹ ہاؤس نے قومی سلامتی...
پشاور مزمل اسلم نے خیبرپختونخوا پولیس کو 16ارب روپے دینے کا دعویٰ مسترد کردیا ،وزیراعلیٰ کے مشیر خزانہ مزمل...
اسلام آباد جنگ کے ترسیلات زر یا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر اثرات سامنے نہیں آئے،تاہم بحران طویل ہوا تو...
کراچیایف آئی اے نے ملک بھر میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکام کے مطابق پاکستان...
کراچی امن معاہدے کیلئے ایران کی منجمد اثاثوں تک فوری رسائی کی شرط رکھی ہے جس نے صدر ٹرمپ کو مشکل میں ڈال دیا...
اسلام آباد حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود عوام پر لیوی اور مختلف مارجنز کا بھاری بوجھ...