قائداعظم یونیورسٹی کا عالمی اعزاز

اداریہ
29 اپریل ، 2025

پاکستان میں یونیورسٹیوں کی تعداد اسکے قیام کے وقت چار تھی، جو آج 261ہے، جن میں 154سرکاری اور 107نجی شعبے کے پاس ہیں۔ 2002ءمیں اعلیٰ تعلیم عام کرنے کیلئے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی جگہ ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس ادارے کی بدولت ہزاروں طالبعلم جو ہر سال اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جاتے تھے، انہیں گریجویشن، پوسٹ گریجویشن، حتیٰ کہ ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے کے مواقع میسر آئے، تاہم یونیورسٹیوں کی تعداد بڑھنے سے بیشتر توجہ انرولمنٹ بڑھانے پر مرکوز ہوئی، اس صورتحال میں تعلیم وتحقیق کا عالمی معیار بڑی حد تک نظرانداز ہوا، جبکہ موجودہ اور آنے والا دور گلوبلائزیشن ہی کا ہے۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی درجہ بندی 2025ء میں 115ممالک کے دو ہزار سے زیادہ اداروں کی فہرست میں بلحاظ پہلی 500جامعات، پاکستان کی صرف قائداعظم یونیورسٹی شامل ہوسکی، جو اس لسٹ میں137ویں نمبر پر آئی۔ اگر ایک ہزار جامعات کی بات کی جائے تو 601 تا 800کی فہرست میں آٹھ اور801تا 1000میں 12پاکستانی یونیورسٹیاں شمار میں آئیں۔ 1200تا 1500کے درمیان آٹھ جبکہ 1500تا 2000کی رینکنگ میں پانچ پاکستانی یونیورسٹیاں شامل ہوسکیں۔ اس طرح دوہزار میں سے پاکستانی یونیورسٹیوں کی کل تعداد 47بنی۔ پاکستان میں حالیہ دو دہائیاں کچھ حد تک ہائر ایجوکیشن کی کمی دور کرنے میں صرف ہوئیں، لیکن اقتصادیات، میڈیکل، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اورزندگی کے دوسرے میدانوں میں تعلیم وتحقیق کی تیزی سے بڑھنے والی مانگ پوری کرنا، بالخصوص میرٹ کا بین الاقوامی معیار حاصل کرنا اب ناگزیر ہوچکا ہے۔ دنیا میں پاکستانی ڈگری کو بہرصورت قابل قدر بنانا ہے، جس کیلئے درس و تدریس اور تعلیم وتحقیق پر کسی قسم کے سمجھوتے کی گنجائش نہیں۔