کراچی(سید محمد عسکری) چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا القیوم کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے ہیں۔ چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار جن کی توسیع شدہ مدت ملازمت ختم ہونے میں محض تین ماہ رہ گئے ہیں کی جانب سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ضیاالقیوم کو تین وضاحتی خطوط جاری ہونے کے بعد پیر کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی کارکردگی جانچنے کے لیے چار رکنی کمیٹی کا اجلاس منعقد کیا جس کی سربراہی چئیرمین ڈاکٹر مختار احمد نے کی تاہم اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے خلاف الزامات کے ثبوت نہ ہونے پر کوئی فیصلہ نہ ہوسکا اور طے کیا گیا کہ آئندہ ہفتے اجلاس طلب کرکے چئیرمین ایچ ای سی اراکین کمیٹی کو ثبوت پیش کریں گے جس کی روشنی میں کارروائی ممکن ہوسکے گی۔ ادھر ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاالقیوم نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کمیشن اراکین کو ایک خط بھی تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے چئیرمین ایچ ایسی کو کمیٹی کی صدارت سے روکا جائے کیونکہ میرے خلاف کارروائیوں کا آغاز تعصب پر مبنی ہے اور سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ متعلقہ اتھارٹی نے اپنی ذہنیت کو پہلے ہی ظاہر کر دیا ہے، جس سے لامحالہ کارروائی کی معروضیت اور منصفانہ ہونے کے بارے میں جائز شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ یہ بات آپ کی توجہ دلانا بھی ضروری ہے کہ موجودہ چیئرمین شپ کے تحت ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا دفتر مسلسل نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کمیشن کے سیکرٹریٹ کو نظرانداز کریں، بجائے اس کے کہ چیئرمین کی خصوصی رضامندی اور ہدایات کے ساتھ بیرونی رابطوں میں مشغول ہوں۔ مزید برآں، بہت سے انتظامی اور مالیاتی فیصلے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے دفتر کو اعتماد میں رکھے بغیر لیے گئے اور کیے جا رہے ہیں، ایسا عمل جو نہ صرف گورننس پروٹوکول کے تقدس کو مجروح کرتا ہے بلکہ کمیشن کے آرڈیننس کی بھی خلاف ورزی کرتا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین کو کارکردگی کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرنے سے روکا جائے، کیونکہ یہ واضح طور پر مفادات کا تصادم ہے اور اس عمل کی غیر جانبداری کے بارے میں خدشات پیدا کرتا ہے۔ خط میں کمیشن اراکین سے درخواست کی گئی کہ وہ اس معاملے کا آزادانہ طور پر جائزہ لیں اور مجھے حقیقی اور حقائق پر مبنی موقف پیش کرنے کا ایک منصفانہ موقع فراہم کریں، جس کی تائید سرکاری ریکارڈ سے حاصل کیے گئے ٹھوس شواہد سے ہو۔ چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد نے کہا ہے کہ ڈاکٹر ضیاالقیوم میری زیرصدارت اجلاس میں ہی ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر ہوئے تھے مگر اس وقت انھوں نے میری صدارت سے اختلاف نہیں کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ای ڈی کی کارکردگی جانچنے کے لئے یہ معمول کا اجلاس تھا یہ اجلاس بہت پہلے ہونا چاہیے تھا مگر ای ڈی نے ساڑھے تین ماہ کی تاخیر کے بعد رپورٹ جمع کرائی اور میری زیرصدارت ہونے والی کمیٹی کے اجلاس پر اعتراض کرکے متنازع کرنے کی کوشش کی ہے۔
کراچی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان زیرِ غور مفاہمتی...
کراچیبھارتی پنجاب میں19بوگس ٹول پلازہ بند، یومیہ2کروڑ کی بچت عام آدمی پارٹی کے وزیراعلی بھگونت مان نے مافیا...
کراچی بھارت نے خلیج میںجہاز حملوں پر امریکا کے سفارتکار کو دوسری بار طلب کر لیا۔ جہازوں پر بھارتی عملہ بھی...
اسلام آباد آئندہ مالی سال مختلف شعبوں کو جو سبسڈی دی جائے گی اس کاہدف1091ارب روپے مقرر کیاگیا ہے، رواں برس کے...
اسلام آباد نئے بجٹ میں قومی اسمبلی کے لئے17ارب روپے رکھے گئے جبکہ سینیٹ کے9ارب روپے رکھے گئے ،بچت کفایت شعاری...
کراچی سینیٹ میں شکست کے بعد جان کورنن نے پیش گوئی کی ہے کہ صدرٹرمپ کے آخری دو برس مشکل ہونگے،ان کا کہنا...
اسلام آباد پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے گلگت بلتستان...
کراچی اقوام متحدہ کے ادارے یونائٹڈ نیشن آن ڈرگس اینڈ کرائم نے کینیڈین حکومت کے اشتراک سے فیڈرل انویسٹیگیشن...