اسلام آباد( رپورٹ ، تنویر ہاشمی ) وفاقی حکومت نے گزشتہ مالی سال 2023-24میں صحت ، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں کے لیے مجموعی طور 560ارب65کروڑرو پے خرچ ہوئے ہیں ، اس کے علاوہ تعلیم کے شعبے کےلیے 77ارب 10کروڑر وپے کی گرانٹس بھی خرچ ہوئی ہیں ، گزشتہ مالی سال ان تینوں شعبوں کیلئے بجٹ میں 520ارب 20کروڑر وپے مختص کیے گئے تھے جس میں بڑا حصہ 466ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا ہے جبکہ صحت اور تعلیم پر مجموعی طور پر 56ارب 20کروڑ روپے مختص کیے گئے ،اگر چہ 18ویں ترمیم کے بعد یہ تینوں شعبے صوبوں کومنتقل ہو چکے تاہم وفاق کی جانب سے ان تینوں شعبوں پر2023-24 ہونیوالے اخراجات کے مطابق صحت پر45ارب روپے خرچ کیےگئے ، تعلیم پر 36ارب90کروڑ روپے خرچ ہوئے ، وزارت خزانہ کی جاری رپورٹ کے مطابق صحت کے شعبے میں11ارب 80کروڑر وپے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر امور پر خرچ ہوئے جبکہ صحت کے آپریشنل امور پر 11ارب 90کروڑ روپے خرچ کیے گئے اور بیماریوں سے تحفظ کے پروگرام پر 21ارب30کروڑ روپے خرچ ہوئے اس طرح صحت کے شعبے پرمجموعی طور پر 45ارب روپے خرچ ہوئے ، اسلام آباد کے ہسپتالوں میں پمز پر پانچ ارب21کروڑر وپے ، پولی کلینک ہسپتال 3ارب93کروڑر وپے ، شیخ زید ہسپتال لاہور پر چار ارب 89کروڑر وپے، صحت کی دیگر سہولیات کےلیے 5ارب12کروڑر وپے خرچ کیے گئے بیماریوں سے بچائوا ور حفاظتی ٹیکہ جات کے پروگرام میں سے پنجاب میں 11ارب23کروڑ روپے ، سندھ میں پانچ ارب12کروڑر وپے ، بلوچستان ایک ارب15کروڑر وپے ، کے پی میں تین ارب49کروڑر وپے اور وفاقی دارلحکومت میں 25کروڑ80لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں ، تعلیم کے شعبے میں 29ارب20کروڑ روپے ملازمین کی تنخواہوں اور ان کے دیگر امور اور تعلیم کے آپریشنل امور پر 7ارب70کروڑر وپے خرچ ہوئے اسلام آباد کے سکولوں اور کالجوں کےلیے 21ارب50کروڑ روپے خرچ کیے گئے ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن پر 13ارب10کروڑر وپے بجٹ میں سے 68ارب50کروڑر وپے گرانٹس سے خرچ ہوئے ، سماجی شعبے کے لیے 466ارب روپے مختلف پروگراموںپر خرچ ہوئے جبکہ 5ارب14کروڑ90لاکھ روپے ملازمین کی تنخواہوں اور ان کے دیگر امور پر خرچ کیے گئے ، 466ارب روپے میں سے 358ارب روپے کفالت پروگرام کے تحت مستحقین میں تقسیم کیے گئے ، تعلیمی وظائف پر 59ارب71کروڑ روپے ، نشوونما پروگرام پر 34ارب66کروڑ روپے ، سکالرشپ پروگرام پر چار ارب روپے ، بی آئی ایس پی کے سروے پروجیکٹ پر تین ارب18کروڑ30لاکھ روپے خرچ کیے گئے جبکہ اس سروے کےلیے بجٹ میں 2ارب26کروڑر وپے مختص کیے گئے تھے ، کیش کی تقسیم پر 3ارب42کروڑ60لاکھ روپے خرچ ہوئے ، غربت میں کمی کے پروگرام کےلیے مختص ایک ارب روپے میں سے کوئی رقم خرچ نہیں کی گئی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین میں جو رقم تقسیم کی گئی ان میں صوبہ پنجاب میں 169ارب 7کروڑر وپے ، سندھ میں 95ارب74کروڑ روپے ، کے پی کے 67ارب4کروڑر وپے ، بلوچستان 17ارب89کروڑر وپے ، آزاد جموں و کشمیر میں چار ارب15کروڑر وپے ، گلگت بلتستان میں تین ارب 85کروڑر وپے اور وفاقی دارلحکومت میں 29کروڑر وپے تقسیم کیے گئے ، پاکستان بیت المال کو چار ارب20کروڑر وپے کی گرانٹ فراہم کی گئی ۔
کراچی سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بنچ نے ایف آئی اے کی جانب سے شہریوں کے بینک اور موبائل اکانٹس بلاک کرنے پر...
کراچی انیل امبانی کی کمپنی سمیت بھارتی بینک حکام پر فراڈ اور مجرمانہ سازش کے الزامات عائد،بھارتی تحقیقاتی...
اسلام آباد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ،...
اسلام آ باد وزیراعظم محمد شہباز شریف معروف صحافی مرحوم الطاف حسن قریشی کے اہل خانہ سے تعزیت اور فاتحہ کے...
لاہور بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے دفاعی اثر و رسوخ کو مزید وسعت دیتے ہوئے ویت نام کو سپرسانک کروز...
لاہور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ٹفنی ٹرمپ اور ان کے شوہر مائیکل بولوس نے آگرہ میں تاج محل کا دورہ کیا...
اسلام آباد پاکستان کی 79ویں سالگرہ کے دن 14 اگست کو معرکہ حق مونومنٹ پارک کا افتتاح کا جائے گا۔ افتتاحی تقریب...
کراچی آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے صدر سینیٹر سرمد علی اور سیکرٹری جنرل محمد اطہر قاضی نے اے پی این ایس...