پارلیمنٹ ڈائری ،بھارتی جارحانہ عزائم کے خلاف کھل کرجذبات کا اظہار

30 اپریل ، 2025

اسلام آباد (محمد صالح ظافر ،خصوصی تجزیہ نگار) پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں جہاں بھارت کے جارحانہ عزائم کے خلاف ہر مکتبہ فکر کے ارکان نے کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور دشمن کے ارادوں کو خاک میں ملانے کا عزم دھرایا گیا، عین اس وقت جب اختتامی تقاریر کا سلسلہ شروع ہونے والا تھا اے این پی کے سربراہ سینیٹر ایمل ولی خان کو اظہار خیال کا موقع دینے کے خلاف تحریک انصا ف کے ارکان چراغ پا ہوگئے اور انکے بارے میں نازیبا جملوں کی بھرمار کردی ایوان میں اس قدر ہنگامہ آرائی ہوئی کہ خدشہ نے جنم لے لیا کہ انکے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوجائے گی، قائمقام چیئرمین سید آل خان کے اشارے پر پارلیمانی پولیس ایوان میں اتر گئی جس کے جوانوں نے فریقین کو اپنے حصار میں لینا شروع کردیا اس دوران مسند نشین چیئرمین نے ارکان کو باضابطہ انتباہ بھی جاری کیا تاہم لفظوں کی جنگ تیزی پکڑتی رہی۔ دھینگا مشتی اس وقت شروع ہوئی جب ایمل ولی خان کو تقریر کی اجازت دی گئی تحریک انصاف کے ارکان نے اپنے نشستوں پر کھڑے ہوکر کہا کہ انہیں دوسری مرتبہ خطاب کی اجازت کیوں دی گئی ہے حالانکہ وہ بھارتی جارحیت کے بارے میں بحث کی ابتدامیں اپنی تقریر کرچکے ہیں۔ ایمل ولی خان نے تحریک انصاف کے بعض ارکان نے اپنے بانی چیئرمین کے پورٹریٹ ڈیسک پر آویزاں کئے تو ایمل ولی خان نے اپی بھاری بھرکم آواز میں کہا کہ ایوان میں چور، ڈاکو، خیانت کار اور مجرم کی تصاویر لہرانے کی اجازت کیوں دی جارہی ہے جس کے بعد ایوان کشتی کے اکھاڑے کا روپ دھارنے لگا، تحریک انصاف کی خاتون رکن جنہوں نے اپنے بانی چیئرمین کی تصویر لیکر اسے دونوں ہاتھوں سے فضا میں بلند کیا تو اے این پی کے سربراہ نے کہا کہ یہ وہی عورت ہے جسے ایوان کے ایک دوسرے رکن کو گالی دینے پر ایوان سے نکال دیا گیا تھا۔