پاکستانی خواتین کی بھارت سے ملک بدر نہ کرنے کی اپیل

30 اپریل ، 2025

کراچی (نیوز ڈیسک) پہلگام حملے کے بعدبھارت سے فوری بے دخلی کے خطرے کے پیش نظر، پاکستانی خواتین نے  نے بھارتی حکام سے کہا ہے کہ انہیں ملک بدر نہ کیا جائے ۔  38 سالہ ارم حسن، جو پاکستانی پاسپورٹ کی حامل ہیں، نے حکومتی ہدایات کے بعد 1مئی تک بھارت چھوڑنے کے حکام کے حکم کے بعد مداخلت کی درخواست کی ہے۔ لاہور کی رہائشی ارم نے اکتوبر 2008 میں پاکستان میں بریلی کے رہائشی محمد اطہر سے شادی کی اور چھ ماہ بعد بھارت منتقل ہو گئی۔ ان کی شادی میں بھارت سے نو افراد نے شرکت کی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران، وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ رہنے کے لئے کئی بار بھارت آئیں، ان کا ایک بیٹا، شاہنور، جو اب 17 سال کا ہے، اور ایک بیٹی، عائشہ، 7 سال کی ہے۔ شاہنور بریلی کے سینٹرل اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے رو پڑتے ہوئے ارم نے کہا، "اپنی بیٹی کو پیچھے چھوڑ کر جانا مشکل ہے۔ وہ بہت چھوٹی ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "میرا بیٹا اپنی تعلیم کے لیے یہاں رہ سکتا ہے۔ میرے شوہر نے مجھے چھوڑ دیا ہے اور میری خالہ بوڑھی ہیں۔ بھارت میں ان کا خیال کون رکھے گا؟ میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کرتی ہوں کہ مجھے اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے جانے کی اجازت دی جائے جب میں بھارت سے روانہ ہو رہی ہوں۔ادھر اتر پردیش میں دو پاکستانی خواتین کے علاوہ، جو ہندوستانی شہریوں سے بیاہی گئی تھیں، تمام پاکستانی شہری بدھ کو ان کی ملک بدری کی آخری تاریخ سے ایک دن پہلے اتر پردیش چھوڑ گئے ہیں۔یہ دو پاکستانی شہری مریم اور سیما حیدر ہیں ، جو مختصر مدت کے ویزے پر بھارت آئی تھیں ، مریم نے اتر پردیش کے بلندشہر ضلع کے رہائشی عامر سے شادی کی تھی اور سیما حیدر، جو برسوں پہلے اپنے ہندوستانی عاشق سچن مینا سے شادی کرنے کے لیے سرحد عبور کر گئی تھیں اور فی الحال گریٹر نوئیڈا میں رہ رہی ہیں۔ مریم تین ماہ کی حاملہ ہیں، سیما نے چند ماہ قبل ایک بچی کو جنم دیا تھا۔ دونوں خواتین نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ انہیں بھارت میں رہنے دیا جائے اور پاکستان واپس نہ بھیجا جائے۔