24 تا 36 گھنٹے حملے کا خطرہ، مستند اطلاعات ہیں بھارت فوجی کارراوئی کا ارادہ رکھتا ہے، وزیر اطلاعات، پوری طاقت سے دفاع کریں گے، وزیراعظم

30 اپریل ، 2025

اسلام آباد( نیو زرپورٹر، نامہ نگارخصوصی ، ایجنسیاں ، مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس مستند انٹیلی جنس اطلاعات ہیں کہ اگلے 24سے 36 گھنٹوں میں پہلگام واقعے سے جڑے بے بنیاد اور خود ساختہ الزامات کو بنیاد بنا کر بھارت، پاکستان کیخلاف فوجی کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،پاکستان ، بھارت کا خطے میں مدعی، منصف اور جلاد کا خود ساختہ کردار سختی سے مسترد کرتا ہے، دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے کسی بھی مہم جوئی کی صورت میں پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا پوری طاقت سے دفاع کرے گا۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان دُنیا میں کسی بھی شکل میں دہشتگردی کی سخت مذمت کرتا ہے،پہلگام حملے کے بعد پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کے ناطے سچائی کا پتہ لگانے اور اس کے محرکات جاننے کیلئے کھلے دل سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی پیشکش کی۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے بھارت نے غیر معقولیت اور تصادم کے راستے پر چلنے کا انتخاب کیا جو کہ خطے اور دنیا میں تباہ کن نتائج کا باعث ہو گا ، غیر جانبدارانہ تحقیقات سے فرار بذات خود بھارت کے اصل مقاصد کو بے نقاب کرنے کیلئے بڑا ثبوت ہے،سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے جان بوجھ کر عوامی جذبات کو بھڑکا کر اس طرح فیصلے کرنا بدقسمت اور افسوسناک ہے، انہوں نے کہابین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنگ سے ہونے والے تباہ کن نتائج کی ذمہ داری صرف اور صرف بھارت پر عائد ہو گی۔ادھروزیراعظم شہبازشریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوترس کے درمیان گزشتہ روز ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال پر توجہ مرکوز کی گئی۔پاکستان کیخلاف بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نے پاکستان کو پہلگام واقعہ سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا اور واقعہ کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا، انہوں نےمقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی وسیع پیمانے پر دستاویزی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے بھارتی غیر قانونی و غیر ذمہ دارانہ اقدامات کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس کا پانی 240 ملین لوگوں کی لائف لائن ہے،، انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے کہا کہ بھارت کو ذمہ داری سے کام لینے اور تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیں،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جنوبی ایشیا میں امن کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا اس اہم وقت میں خطے میں کسی قسم کی کشیدگی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ادھرنائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈارکا کہنا ہے کہ پاکستان کسی صورت پہل نہیں کرے گا لیکن اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گاجبکہ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہاہے کہ بھارت آگ سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے‘کسی بھی مہم جوئی کا پوری قوت سے جواب دے گا۔ اسحاق ڈار کا ہنگری کے وزیرخارجہ پیٹر زجارتو سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، جس میں اسحاق ڈار نے بھارتی بے بنیاد پروپیگنڈے کو مسترد کردیا۔ ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان کے مطابق اسحاق ڈار نے ہنگری کے وزیرخارجہ کو موجودہ علاقائی صورتحال سے آگاہ کیا،ہنگری کے وزیرخارجہ پیٹر زجارتو نے بات چیت اور مسائل کے پرامن حل کے ذریعے صورتحال کو کم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ دوسری جانب اسحاق ڈار کو کویت کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ علی ال یحییٰ نے ٹیلی فون کیا، جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا بھارت کے ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، کویتی وزیر خارجہ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے مؤقف کی مکمل حمایت کا اظہار کیا اور ہر سطح پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کروائی۔