جنگ کے پاک بھارت معیشتوں پر سنگین نتائج ہونگے، ڈاکٹرندیم الحق

30 اپریل ، 2025

اسلام آباد( خالدمصطفیٰ) اگرپاکستان اور بھارت پہلگام جیسے معاملے پر جنگ میں الجھ گئے تو جہاں ایک طرف ہزاروں لوگ جسمانی طورپر اسکا نشانہ بن سکتے ہیں وہیں دونوں ممالک کی معیشتوں کےلیے بھی اس کے سنگین اور دوررس نتائج ہوں گے۔ ان کی موجودہ معاشی صورتحال ، بین الاقوامی باہمی انحصار اور جدید جنگی نظم کی لاگت پر بھی اس کے اثرات ہوں گے۔تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارت کی معیشت اورمحفوظ ذخائر پاکستان سے بہت بہتر حال میں ہیں لیکن پاکستان کا لڑنے کا جذبہ فرق پیدا کر سکتا ہے کیونکہ پاکستانی فوج بہترین پروفیشنل فوج ہے۔ ڈاکٹر ندیم الحق وہ معززماہرمعیشت ہیں اور سابق چیئر مین پلاننگ کمیشن ہیں وہ پائیڈ کے سابق وائس چائسلربھی ہیں اور انہوں نے آئی ایم ایف میں بھی مختلف حیثیتوں سے کام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کی معیشتیں متاثر ر ہوں گی لیکن اگر جنگ ہوتی ہے تو پھر معیشت کا دھیان بھی کون رکھتا ہے بلکہ جنگ تو معیشت تباہ ہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگیں بالعموم عزت غیرت اوربالادستی کےلیے لڑی جاتی ہیں اس نمائندے کے پاس موجود معاشی ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ بھارتی معیشت 3.7 ٹریلین ڈالر پر کھڑی ہے اور اس کا سلانہ فوجی بجٹ 75 ارب ڈالر ہے۔ ماہرین کے مطابق فوری فوجی تنازعہ سے بھارت کو 20 سے 50 ارب ڈالر کا براہ راست نقصان فوجیوں اور ہتھیاروں کی نقل و حرکت کی صعورت میں ہوگا۔ بھارتی مجموعی قومی پیداور کیشرح بھی ایک سے تین فیصد تک گرسکتی ہے جہاں تک پاکستان کاتعلق ہے تو اس کی معیشت کا حجم ہی محض 375 ارب ڈالر ہے اور اسکا فوجی بجٹ 7 ارب ڈالر سالانہ ہے۔ پاکستان کا جی ڈی پی 2.6 فیصد سالانہ پر منڈلارہا ہے لیکن جنگ کی صورت میں یہ منفی ہوجائےگا۔ جنگ سے پاکستان کا نقصان 10 سے 15 ارب ڈالر سے بڑھ سکتا ہے ۔اہم پارٹنرز کو تجارتی راستے بند ہوسکتے ہیں۔ بھارت میں معروف سیاحتی مقامات پر ساحت پبری طرح گرسکتی ہے۔ سرحدی علاقوں میں صنعتوں اور فصلوں کو بھی بڑے ہیمانے پر نقصان ہوسکتا ہے۔