پاکستان کیخلاف کہیں سے آواز نہیں اٹھائی گئی،تجزیہ کار

30 اپریل ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ)ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس پرسینئر صحافی تجزیہ کار شاہزیب خانزادہ نے جیو پر گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے خلاف کہیں سے آواز نہیں اٹھائی گئی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ثبوت تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے بزدلی نہ سمجھاجائے۔ پاکستان کے پاس کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں،آرایس ایس خطے کےلیے خطرہ ہے۔ زرداری اور شہبازشریف اپنے ذاتی مفادات کےلیے بھارت کو جواب نہیں دینگے۔ تفصیلات کے مطابق انہوں نے کہا کہ جب پلوامہ آپریشن کا فالس فلیگ ( جعلی آپریشن) ہوا تھا تو ہم نے بھارت کو ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی تھی لیکن بھارت کوئی بھی ٹھوس شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔ جیسا کہ میں نے 2019 میں ہی پیشگوئی کر دی تھی کہ بالکل ویساہی پہلگام واقعہ کے بعد ہورہا ہے۔ بجائے اس کے کہ مودی حکومت تحقیقات کرے اور مشاہدہ باطن سے گزرے وہ پھر سے پاکستان پر الزامات عائد کر رہی ہے۔ ڈیڑھ ارب لوگوں کے وطن کی حیثیت سے بھارت کو ذمہ دارارنہ کردار اا کرنا چاہیے بجائے اس کہ کہ وہ ایک ایسے علاقے میں من مانیاں کرتا پھرے جو پہلے سے ہی نیوکلیئر فلیش پوائنٹ کہلاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن ہماری ترجیح ہے لیکن اسے بزدلی نہ سمجھاجائے۔پاکستان کے پاس کسی بھی بھارتی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں جیسا کہ میری حکومت کے دوران پوری قسم کی پشت پناہی سے 2019 میں کیا گیا تھا۔میں نے ہمیشہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کی اہمیت پرزور دیا ہے جسکی ضمانت اقوام متحدہ کی قراردادیں دیتی ہیں،میں ان حقائق کو بھی نمایاں کرتا آرہا ہوں کہ آرایس ایس کی نظریاتی سرکردگی میں چلنے والا بھارت سنہ صرف خطے بلکہ اس سے دور کے علاقوں کےلیے بھی خطرہ ہے۔ بھارت کی جانب سے کشمیر میں جاری تسلط، شق 370 کے غیر قانونی خاتمے کے بعد مزید سخت ہوگیا اور اس سے کشمیریوں کی آزادی کی تمنا مزید تیز ہوئی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہاس وقت قوم فارم 47 کے نتیجے میں بننے والی ناجائز حکومت کی وجہ سے تقسیم ہے اور اس کے باوجودنریندرمودی کی جارحیت نے پاکستانی عوام کو یک آواز کردیا ہے۔ ہم جہاں اس جعلی حکومتی بندوبست کو مسترد کرتے ہین وہیں ایک قومی کی حیثیت سے مضبوطی کے ساتھ کھڑے ہیں اور مودی کی جنگی بیان بازی اور خطرناک جنون کی مذمت کرتے ہیں جو علاقائی امن کےلیے خطرہ ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ بیرونی دشمن کیخلاف جنگ میں قوم کو سب سے پہلے متحدہونا چاہیے، یہ بڑا اہم وقت ہے کہ ایسے تمام اقدامات کو روکا جائے جو قوم کو تقسیم کررہے ہیں۔