گٹکے اور مین پوری کی سرعام فروخت جاری، نوجوان نسل تباہی کے دہانے پر

05 مئی ، 2025

کوئٹہ(اسٹا ف رپورٹر)کوئٹہ میں بڑھتے ہوئے گٹکے اور مین پوری کی فروخت نے نوجوان نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے ۔ مضر صحت گٹکاا ورمین پوری کی فروخت کی وجہ سے شہریوں میں منہ ، زبان اور حلق میں کینسر جیسی مہلک بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ گٹکے کی صورت میں نوجوانوں میں سرایت کرنے والے زہر کو پاکستان میں پھیلانے کا ذمہ دار بھارت ہے تفصیلات کے مطابق ماضی میں گٹکے کااستعمال صرف کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں ہوتاتھا ،لیکن اب کوئٹہ کے عوام بھی کثیر تعداد میں استعمال کررہے ہیں ، گٹکا کھانے والے کا سب سے پہلے منہ متاثر ہوتا ہے۔ اس کا زیادہ استعمال اور اس میں موجود کانچ کے ذرات منہ کے نرم گوشت کو سخت کر دیتے ہیں جس کے سبب منہ پورا کھولنا اور زبان کا ہونٹوں سے باہر نکالنا دشوار ہو جاتا ہے، نیز چونے کا مسلسل استعمال منہ کی جلد کو پھاڑ کر چھالا بنا دیتا ہے جو بعد میں منہ کا السر بن جاتا ہے، اگر متاثرہ شخص فورا چھالیہ، گٹکا، مین پوری وغیرہ کا استعمال ترک نہیں کرتا تو یہی السر آگے چل کر کینسر کی شکل اختیار کر لیتا ہے،گٹکاکا کتھا مہنگاہونے کے سبب اس میں متبادل کے طور پر کمیلے سے حاصل کردہ جانوروں کا خون ڈرائی کرکے شامل کیا جاتا ہے، چھالیہ کی جگہ میں کجھور کی گٹھلیاں اور لکڑی کا برادہ شامل کیا جاتا ہے۔ تمباکو میں موجود نیکوٹین کو منہ میں زیادہ جذب کرنے اور اس کا نشہ دوبالا کرنے کے لیے کانچ کے باریک ذرات استعمال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ خشک گٹکے میں مضر صحت تیز کیمیکلز اور مختلف اقسام کے فلیورز استعمال کیے جاتے ہیں۔گٹکے کے اندر گھٹیا کوالٹی کا کریش تمباکو اور شیشے کو بھی کریش کرکے ملائے جاتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق کچھ نوجوان اپنی آواز گٹکے کھانے کی وجہ سے کھو چکے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر اس کاروبار کا قلع قمع کرے اور والدین کو بھی اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرور ت ہے۔