کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

12 مئی ، 2025

راولپنڈی (فاروق اقدس )ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے واضح کیا ہے کہ کوئی انڈین پائلٹ پاکستان کی حراست میں نہیں ‘پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے 26 انڈین اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ‘ان میں بھارتی فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے تربیتی مراکزشامل تھے‘سیز فائر کی درخواست پاکستان نے نہیں کی تھی بلکہ جنگ بندی کی خواہش کا اظہار انڈیا کی جانب سے کیا گیا تھا‘مسلح افواج نے قوم سے کیا ہوا وعدہ نبھایا‘ فوج نے اپنی صلاحیتیوں کا جزوی استعمال کیا، متعدد جنگی صلاحیتیں مستقبل کیلئے محفوظ رکھیں‘ہمارے ایک طیارے کو معمولی نقصان پہنچاہے وہ جلد آپریشنل ہوجائےگا‘وائس ایڈمرل رب نواز کے مطابق پاکستان کی بحری فوج کو تیار دیکھ دشمن کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی جبکہ پاک فضایہ کے ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمدکاکہنا ہے کہ انڈیا کی فضائیہ کے مقابلے میں پاکستان کو چھ صفر سےکامیابی ملی۔پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پاک فضائیہ ائیر وائس مارشل اورنگ زیب احمد اور پاک بحریہ کے وائس ایڈمرل رب نواز کے ہمراہ کے ہمراہ اتوارکی شب پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ بھارتی جارحیت کے نتیجے میں آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ شروع کیا ‘پاکستان کی مسلح افواج، پوری قوم خصوصاً نوجوانوں کے جذبے، حوصلے اور بھرپور حمایت پر دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہیں، جنہوں نے مشکل ترین وقت میں ہمارے حوصلے کو بڑھایا، پاکستان کے ان نوجوانوں کے بھی مقروض ہیں جو سائبر اور انفارمیشن کے محاذ پر صف اول کے سپاہی بنے‘ہم بلا تفریق تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت کے بھی ممنون ہیں جنہوں نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر، وطن کےدفاع میں متحد ہوکر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بہترین مظاہرہ کیا‘ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے بھارت کے 26 اہم ملٹری ٹارگٹس کو نشانہ بنایا گیا‘ان تنصیبات کو نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں بلکہ بھارت کے اندر بھی نشانہ بنایا گیا۔ان مقامات میں سورت گڑھ ، سرسہ، بجھ، آدم پور، اونتی پورہ، اودھم پور، نالیہ، برنالا، بھٹنڈہ، الواڑا، سری نگر، جموں، مامون، امبالا اور پٹھان کورٹ شامل تھے، بیاس اور نگروٹا میں موجود براہموس میزائل کے ذخائر جو پاکستانی شہریوں پر حملوں میں استعمال ہوئے، ان کو تباہ کیا گیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت کے ایس 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کو پاک فضائیہ نے بوجھ اور آدم پور مقامات پر نشانہ بنایا جبکہ اڑی میں فیلڈ سپلائی ڈیپو اور پونجھ میں ریڈار سسٹم جیسے لاجسٹک اور سپورٹ مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا، کے جی ٹاپ، نشہرہ میں موجود 10 بریگیڈ اور 80 بریگیڈ کی کمانڈ تنصیبات کو بھی تباہ کیا گیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستانی افواج نے بھرپور سائبر حملے بھی کیے جس کے نتیجے میں ان بھارتی اہم مواصلاتی اور انفرااسٹر کچر نظام کو مفلوج کیا گیا جو بھارتی افواج استعمال کررہی تھیں‘پاکستانی افواج کے پاس ایسی کئی جدید جنگیں صلاحیتیں موجود ہیں جن میں کچھ کا استعمال محدود سطح پر کیا گیا جبکہ کئی صلاحیتیں آئندہ کے لیے محفوظ رکھی گئی ہیں۔کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ جب کبھی ہماری خود مختاری یا سرحدوں کی خلاف ورزی کی گئی تو ہمارا رد عمل جامع اور فیصلہ کن ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ 6 اور 7 مئی کو بھارتی جارحیت کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں شہادتیں ہوئیں، ہمارے دل اور ہمدردیاں شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، وطن کے دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش والے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج بالخصوص پاکستان کے وزیراعظم اور ان کی کابینہ کی قائدانہ صلاحیتوں اور جرت مندانہ فیصلوں کی بھی قدر دان ہیں، جنہوں نے ملک کو اس نازک موڑ پر درست سمت میں رہنمائی فراہم کی۔ترجمان پاک فوج نے قوم کو آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جس میں تینوں افواج کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ بروقت صورتحال کی آگاہی، نیٹ ورک سینٹرک وار فیئر اور ملٹی ڈومین آپریشنز کی مکمل صلاحیت بروئے کار لائی گئی، زمین، فضا، سمندر اور سائبر اسپیس میں مکمل ہم آہنگی سے اہم اہداف کو تباہ کیا گیا ، انہوں نے کہا کہ راجوڑی اور نوشیرہ میں موجود ملٹری اینٹلی جنس کی یونٹس اور ان کی فیلڈ عناصر جو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث پراکسیز کو سپورٹ دیتے تھے ان کو بھی ختم کیا گیا جب کہ لائن آف کنٹرول کے باہر وہ تمام آرٹلری، لاجیسٹک اور پوسٹیں جو آزاد کشمیر میں شہریوں پر فائرنگ کرتی تھی ان پر شدید اور مسلسل جوابی کارروائی کی گئی، یہاں تک کہ انہوں نے سفید جھنڈے لہرادئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ڈرونز کے ذریعے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاکہ عوام میں خوف پھیلایا جاسکے اور ان کو ڈرایا جاسکے، اس کے رد عمل میں آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص کے دوران پاکستان کے مسلح ڈرون بھارت کے دارالحکومت نئی دلی سمیت بڑے شہروں اور مقبوضہ کشمیر سے لے کر گجرات تک مسلسل پرواز کرتے رہے تاکہ پاکستان کی صلاحیت کا نہ صرف اظہار کیا جاسکے بلکہ یہ بتایا جاسکے اس ڈرون کے ڈومینز کا موجودہ وار فیئر میں کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب مشرقی سرحد پر افواج پاکستان دفاع میں مصروف تھی تو خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جو اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کو اپنی پراکسیز کے ذریعے فروغ دے رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کو یاد ہو تو مسلح افواج نے آپ سے 3 چیزوں کا وعدہ کیا تھا، ہم نے آپ کو بتایا کہ تھا ہم بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیں گے، مگر یہ جواب ہماری مرضی کے وقت، جگہ اور ہمارے طریقہ کار کے مطابق ہوگا،ہم نے قوم سےکہا تھا کہ جب ہم بھارت کو نشانہ بنائیں گے تو ساری دنیا کو پتا چل جائے گا، اور ہم نے آپ سے یہ بھی کہا تھا کہ جتنا تمہیں موت سے ڈر لگتا ہے اس سے زیادہ ہماری مسلح افواج شہادت سے محبت رکھتی ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پاکستانی حملوں کی انٹرنیشنل اور بھارتی میڈیا پر کوریج کے کلپس دکھائے اور کہا کہ پوری دنیا نے دیکھا اور رپورٹ کیا، ہم نے یہی وعدہ کیا تھا جو پورا کیا۔انہوں نے بھارتی وزارت دفاع کی نمائندوں کا ویڈیو کلپ دکھایا جس میں وہ پاکستانی افواج کے حملوں کی تفصیلات بیان کر رہی تھیں، پھر انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف بھارتی عسکری اہداف کو نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل اور بھارٹی میڈیا رپورٹ کررہا ہے کہ بھارت میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا، ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہم عام شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، ہمارا مذہب، ہماری ثقافت اور ہماری مسلح افواج کا پروفیشنل ازم اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ شہریوں کو نشانہ بنایا جائے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پھر آپ نے دیکھا کہ کس نے پیچھے ہٹنے کی بات کی۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں واضح طور پر کہنا چاہتا ہوں کہ ہماری تحویل میں کوئی بھی بھارتی پائلٹ نہیں ، یہ سوشل میڈیا پر چلنے والی باتیں اور مختلف ذرائع سے آنے والے فیک نیوز یا پروپیگنڈا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے کبھی بھی سیز فائر کی کوئی درخواست نہیں کی، حقیقت یہ ہے کہ 6 اور 7 مئی کی رات بھارت کی جانب سے درخواست کی گئی تاہم پاکستان نے واضح جواب دیا کہ ہم صرف اسی صورت بات چیت پر آمادہ ہوں گے جب ہم اپنا جواب دے دیں، 10 مئی کو ہمارا جواب تاریخی تھا جس میں کسی شہری آبادی کو نشانہ نہیں بنایا گیا، ہماری جوابی کارروائی کے بعد ہندوستان نے جنگ بندی کی درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے ایک بار پھر سے مسئلہ کشمیر کو فلیش پوائنٹ بنا دیا ہے جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت جیسی 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ یہ دونوں کے لیے تباہی کے مترادف ہے، اسی لیے پاکستان نے اس تنازع میں بہت ہی ذمے داری کا مظاہرہ کیا ، اور اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ مغربی سرحد پر تعینات افواج ، جو دہشتگردی سے نبردآزما ہیں، ان پر اثر نہ پڑے، پاکستان کی مسلح افواج ایل او سی پر جنگ بندی کی پاسداری کررہی ہیں، ہماری افواج کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی جارہی،، پاکستان میں تو عوام امن ہونے پر خوشیاں منا رہے ہیں ، لیکن اگر کوئی جارحیت ہوتی ہے تو ہم اس کا جواب ضرور دینگے۔ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا ’آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘ کا آئیڈیا کس کا تھا، کیا یہ حافظ صاحب کا آئیڈیا تھا؟ ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی افواج میں اسلام نہ صرف ہماری ذات کی حد تک بلکہ یہ ہماری ٹریننگ کا بھی حصہ ہے اور یہ ہمارے ایمان کا بھی حصہ ہے اور ہمارے آرمی چیف کا بھی پختہ یقین ہے تو لیڈرشپ کا یقین بھی مختلف طریقوں سے آپریشنز میں ٹرانسلیٹ ہوتی ہے جبکہ اس نام سے کیا پتہ چلتا ہے کہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے سیسہ پلائی دیوار کی طرح ہوتے ہیں۔ اس موقع پر وائس ایڈمرل رب نواز نے بتایا کہ چھ اور سات مئی کی درمیانی شب انڈیا کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان نیوی مکمل طور سے تیار تھی۔پاکستان نیوی نے تمام بندرگاہوں کو آپریشنل رکھا‘پاکستان کی سمندری حدود سے انڈیا کا جہاز 400 ناٹیکل میل دور تھا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی بحری فوج کو تیار دیکھ دشمن کی آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔پاک فضایہ کے ائیر وائس مارشل اورنگزیب احمد نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایاکہ انڈیا نے ڈرون سے شہری آبادی کو نشانہ بنایا، انڈین فضائیہ کی جارحیت پر اس کے طیارے مار گرائے۔پاکستان کی فوج نے انڈین فوجی تنصیبات اور دہشت گردی کے تربیتی مراکز کو تباہ کیا اور اس دوران انڈیا کی فضائیہ کے مقابلے میں پاکستان کو چھ صفر سےکامیابی ملی۔بھارت نے براہموس میزائلوں سے بھی حملہ کیا مگر ہم نے تیکنیکی طور پر انہیں ناکارہ بنایا اور اپنے اہداف سے ان کا رخ تبدیل ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اپنے میزائلوں کے ذریعے نہ صرف افغانستان بلکہ اپنے ہی علاقے امرتسر کو بھی نشانہ بنایا، انہوں نے کہا ہم فضا میں رافیل طیاروں کو خاص اہمیت دے رہے تھے اور اس کے بعد زمین پر ایس 400 سسٹم پر ہماری خاص توجہ تھی اور اس سسٹم کو آدم پور میں احتیاط سے نشانہ بنایا گیا۔