کشمیر پر ٹرمپ کا بیچ میں آنا پاکستان کے حق میں اچھا ہے، تجزیہ کار

12 مئی ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) معروف تجزیہ کار عمر چیمہ کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کا بیچ میں آنا پاکستان کے حق میں اچھا ہے، فخر درانی نے کہا پاک بھارت کشیدگی سے انڈین اسٹاک مارکیٹ کو 44بلین ڈالر کا نقصان ہوا،جبکہ ملٹری نقصان الگ ہوا، ریٹائرڈ ایڈمرل شاہد اقبال نے کہا اگر چین کی سپورٹ نہ ہوتی تو شاید نتائج مختلف ہوتے، اعزاز سید نے کہا مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اتنی پولرائزیشن تھی اگر وہ اس طرح کی پالیسی نہیں اپناتے تو پاکستان میں اتنا اتحاد دیکھنے میں نظر نہیں آتا، مظہر عباس نے کہا حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران جن ممالک نے ہمیں سپورٹ کیا ہے ان سے ہمارے رابطے بڑھنے چاہیے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیو نیوز کے ’’وار روم‘‘ میں میزبان محمد جنید سےگفتگو کرتے ہوئے کیا۔ تجزیہ کار عمر چیمہ نے بین الاقوامی بیانیہ اس وقت ہمارے حق میں جارہا ہے اور انڈین کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں ۔اس وقت انڈیا اتنا بوکھلایا ہوا ہے کہ وہ اپنے ہی لوگوں کو خود گالیاں دے رہیں ہیں اوراس وقت انڈیا کے سیکرٹری خارجہ ٹرولنگ کا نشانہ بننے ہوئے ہیں۔ اس سے مسئلہ کشمیر دوبارہ لائف لائن میں آیا ہے کیونکہ 2019کے بعد سے لگتا تھا کہ مسئلہ کشمیر دفن ہوگیا ہے اور صدر ٹرمپ کا دونوں ملکوں کے بیچ میں آنا پاکستان کے حق میں اچھا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب انڈیا کے اندربھی ایک رائے عامہ پایا جاتا ہے اور لوگ اس بات پر یقین کررہے ہیں کہ اب انڈیا کو پاکستان کیساتھ اپنے تمام معاملات کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے اوراب انڈیا کو چاہیے کہ وہ ساؤتھ ایشیا میں اپنے ہمسائے کیساتھ معاملات بہتر کریں ورنہ انکی قدر دن بدن کم ہوتی جائے گی۔مودی ابھی تک صدمہ میں ہیں اور جتنامودی نے ڈرامہ رچایا ہوا تھا وہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا، انڈیا کو 9-11کے بعد سے امریکا کی جو سپورٹ تھی وہ اب ہٹ چکی ہے اور اب انڈیا چیخیں نکلا شروع ہوگئی ہیں۔ تجزیہ کارفخر درانی نے کہا پاکستانی میڈیا نے جس طرح شفافیت کیساتھ معلومات بتائی اور جس طرح ڈی جی آئی ایس پی آر نے تمام ثبوتوں کیساتھ تمام انفارمیشن سے آگاہ کیا اور دوسری جانب انڈین میڈیا کی تمام ٹاپ کی ویب سائٹ پر ایک جیسے آرٹیکلز اور خبریں تھی اس سے یہ واضح ہورہا تھا کہ انڈیا کا میڈیا مکمل طور پر کنٹرول تھا ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے انڈیا کی عوام کی ذہن سازی کی گئی وہ اتنی آسانی سے کم ہوگی۔اصل کامیابی کیلئے آپ کو اچھے ہوم ورک کی ضرورت ہے خاص طور پر جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان صدر ٹرمپ کسی بھی مذاکرات کیلئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرتے ہیں تو دونوں ملکوں کو ملکر بیٹھ کر ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا اور دونوں کو ایک بات پر متفق ہونا پڑے گاکہ اگر آگے کبھی پہلگام یا جعفر ایکسپریس جیسے واقعات ہوتے ہیں تو یہ معاملہ کس پلیٹ فارم پر جائیگا۔ پاکستان اور انڈیا کی کشیدگی میں جو انڈیا کو اقتصادی نقصان ہوا ہے وہ صرف44بلین ڈالرز انڈین اسٹاک مارکیٹ کا ہے اورجو ملٹری کا نقصان ہوا وہ الگ ہے۔ وائس ایڈمرل (ر) شاہد اقبال نے کہا کہ یہ ہماری بہت بڑی فتح ہے اور جو دشمن کا پلان تھا اس کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے اور میں پاکستان نیوی کی تعریف کرتا ہوں انہوں نے اپنے سے چھ سے سات گنا بڑی فوج کو پیچھے دھکیل کر رکھا اور خود فرنٹ پر رہے۔اب پاکستان کی جو علاقائی اور بین الاقوامی فورمز ہیں اسکے اندر پاکستان کی آواز کو سنا جائے گا۔ کچھ ممالک ہمارے پیچھے سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے رہے اور جس طرح کی سپورٹ چین کی طرف سے آئی ہے اگر یہ نہیں ہوتی تو ہوسکتا ہے نتیجہ مختلف ہوتا اور اب ہمیں محتاط ہوجانا چاہیے کہ کون دوست ہے اور کون دشمن اور ہمارے ساتھ کون سے نیوٹرل ممالک ہیں۔ تجزیہ کارمظہرعباس نے کہا کہ مجھے لگتا ہے یہ سب بھارت کیلئے آسان نہیں ہوگا اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ انڈین اپوزیشن نے مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میںآ کر پہلگام واقعہ اور آپریشن سندور اور سیز فائر کے بارے میں پارلیمنٹ کو آگاہ کریں اورانڈین اپوزیشن مودی سرکار کو مکمل طور پر پریشر میں رکھنا چاہتی ہے اور مودی سرکار کیلئے بہت مشکل ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ کے بیان کا خیرمقدم کریں۔ تجزیہ کار مظہر عباس کا مزید کہنا تھا کہ ہماری سفارتی و سیاسی اور صحافی کامیابیاں ہوئی ہیں، مودی ہمیشہ مذاکرات سے بھاگتے ہیں اورمودی کے ہوتے ہوئے بہت مشکل ہے کیونکہ ان کی سیاست اینٹی پاکستان سے شروع ہوتی ہے اور اس ساری صورتحال میں پاکستان کیلئے ایک دروازہ کھلا ہے اور جن ممالک نے ہمیں سپورٹ کیا ہے ان سے ہمارے رابطے بڑھنے چاہیے۔ تجزیہ کار اعزاز سید نے کہا کہ سب سے پہلے میں انڈین وزیراعظم مودی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں اتنی پولرائزیشن تھی اگر وہ اس طرح کی پالیسی نہیں کرتے تو پاکستان میں اتنا اتحاد دیکھنے میں نظر نہیں آتا۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں ہتھیار اور تشددخارجہ پالیسی کے ٹول کے طور پر نظر آیا۔ پاکستان نے صورتحال سے بہت کچھ سیکھا ہے اور انڈیا کو بھی اس سے بہت کچھ سیکھنا پڑے گا اور بھارت یا پاکستان میں کوئی وزیراعظم ہو دونوں کو ملکر ساتھ چلنا ہوگا۔ ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپریشن سندور ختم ہوگیا ہے اور ہم نے فتح حاصل کرلی لیکن بھارت میں ایک بہت بڑا طبقہ ہے جو کہہ رہا ہے آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا۔ تجزیہ کار شہزاد اقبال نے کہا کہ انڈیا میں غیر جانبدار تبصرہ نگار کہہ رہے ہیں کہ بھارت اس سیز فائر پر پورا نہ اترے ہوسکتا ہے بروڈرز ایشوز پر پاکستان کیساتھ بات چیت کیلئے تیار نہ ہو ۔پاکستان کی پوزیشن بڑی واضح ہے کہ ہم نے ہر ایشو پر بات کرنی ہے ۔ پاکستان کی حکومت کا واضح موقف ہے کہ بلوچستان میں بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کی جو کارروائیاں رہی ہیں اس میں "را"اور انڈیا ملوث ہے۔