لاہور(رپورٹ : آصف محمود بٹ ) پاکستان سول سروسز اکیڈمی نے ملک کے پسماندہ اور کم نمائندگی رکھنے والے علاقوں سے تعلق رکھنے والے سی ایس ایس کے خواہشمند امیدواروں کو بااختیار بنانے کیلئے ایک غیر معمولی اور اہم قومی آؤٹ ریچ پروگرام کا اعلان کیا ہے امیدواروں کی نامزدگی مقرر کردہ معیار کے مطابق کی جائے گی ، فی امیدوار کورس کی لاگت دو لاکھ روپے مقرر ،ڈی جی سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ نے کہا ہے کہ یہ پروگرام نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا،بلکہ ملک کے بیوروکریٹک نظام کو بھی ان کی نمائندگی سے بہتر بنائے گا۔امیدواروں کی نامزدگی فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے مقرر کردہ معیار کے مطابق کی جائے گی ، فی امیدوار کورس کی لاگت دو لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، جس میں رہائش،کھانا، تربیتی مواد، اور تعلیمی دورے شامل ہیں، کورس کی لاگت صوبائی حکومتیں ادا کریں گی۔ ڈائریکٹر جنرل سول سروسز اکیڈمی فرحان عزیز خواجہ نے حکومت سندھ، حکومت خیبرپختونخوا اور حکومت بلوچستان کے چیف سیکرٹریز کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے، جس میں اس پروگرام کے تمام پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں سے نامزدگیوں اور مالی تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔کورس 6 اکتوبر 2025 سے 6 نومبر 2025 تک والٹن، لاہور میں واقع اکیڈمی کیمپس میں منعقد ہوگا۔ اس کورس میں بلوچستان، خیبرپختونخوا (سابقہ فاٹا سمیت) اور سندھ (شہری و دیہی) کے امیدواروں کو ابتدائی رہنمائی، مضامین کی ساخت، تیاری کے طریقے، وقت کے مؤثر استعمال، قومی و بین الاقوامی امور، اخلاقیات، سول سروسز میں کردار، اور شخصیت سازی جیسے اہم پہلوؤں پر تربیت دی جائے گی۔ اس مہم کے ذریعے اکیڈمی کی ٹیم ملک بھر کی جامعات، کالجوں، اسکولوں اور کمیونٹی مراکز میں جاکر سی ایس ایس سے متعلق آگاہی دے گی۔سول سروسز اکیڈمی نے اس کے بعد 2026 میں ایک چار ماہ کا طویل رہائشی کریش کورس بھی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو اقلیتوں، فاٹا انضمامی اضلاع، دیہی سندھ اور دیگر پسماندہ علاقوں کے امیدواروں کے لیے مخصوص ہوگا۔ اس پروگرام میں مضامین کی گہرائی سے تیاری، اختیاری مضامین میں ماہر اساتذہ کی رہنمائی، ماک امتحانات، تحریری اسائنمنٹس، انفرادی کمزوریوں کی تشخیص، اور انٹرویو سے قبل شخصیت سازی اور مشقیں شامل ہوں گی۔ ہر امیدوار کو ایک CSS کوالیفائیڈ سینئر افسر کے ساتھ جوڑا جائے گا جو اسے مکمل امتحانی عمل میں ذاتی رہنمائی فراہم کرے گا۔ فرحان عزیز خواجہ نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ ملک کے بیوروکریٹک نظام کو بھی ان کی نمائندگی سے بہتر بنائے گا۔ اس اقدام کے ذریعے پاکستان کی سول سروس کو ایک ایسا آئینہ بنایا جا رہا ہے جس میں ملک کی مکمل علاقائی، لسانی، مذہبی اور سماجی شناخت جھلکتی ہو۔