آئی ایم ایف کا ای۔آبیانہ نظام لاگو کرنے پر زور

19 مئی ، 2025

اسلام آباد(خالد مصطفیٰ)آبپاشی کیلئے پانی کی قیمت اور پانی وصولی کو بہتر بنانے کیلئے بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف پنجاب میں ای۔آبیانہ نظام لاگو کرنے اور رفتہ رفتہ دیگر صوبوں تک پھیلانے پر زور دیا ہے۔ وزارت آبی وسائل کے مطابق اس طرح چاروں صوبوں سے 300 ارب سے 325 ارب روپے تک آمدنی ہوسکتی ہے جو آبپاشی نظام کو بہتر بنانے اور مستقبل میں پانی کے قومی منصوبوں جیسے ڈیم بنانے کیلئے کام آسکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے گزشتہ روز اپنا پہلا جائزہ مکمل ہونے پر جاری روپوٹ میں کہا کہ ای۔آبیانہ نظام لاگو کرنے سے واٹر منیجمنٹ کو موثر ومضبوط بنایا جاسکتا ہے تاہم وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے پانی کی قیمت طے کرنے کے عمل پر پہلے سے کام شروع کرچکی ہے، جس میں ڈیموں سمیت قومی آبی منصوبے شامل ہیں ایک ٹاک فورس سے 2012ء میں سفارش کی تھی کہ ڈائریکٹر گرائونڈ واٹر کو پمپ کرنے پر 25۔80 ڈالرز لاگت آتی ہے جو ایک سال میں سطح پر ایکڑ پانی کی قیمت ہونی چاہئے اگر حکومت کسانوں سے سالانہ فی ایکڑ کم سے کم 25؍ڈالرز (7ہزار روپے) پانی کی قیمت وصول کرنا شروع کردے تو سالانہ 325؍ارب روپے کی مالی وصولیاں ہوسکتی ہیں جبکہ پاکستان کو 45؍ملین ایکڑ زرعی اراضی دستیاب ہے حکومت پنجاب نے 5؍دسمبر 2013ء کو 24۔2023ء کے ربیع کی فصل کیلئے سالانہ فی ایکڑ پانی کی قیمت 400 سے 2000 روپے تک قیمت بڑھا دی تھی،خریف میں گنے کی فصل کیلئے پانی کی فی ایکڑ قیمت 1600 روپے، چاول کی دوہزار، کپاس کی ایک ہزار، سبزیوں کی 1200، مکئی کی 1200باغوں کیلئے ایک ہزار اور پھلوں کیلئے فی ایکڑ ایک ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ مقرر کی گئی تھی، خریف کی فصلوں کیلئے پانی کی سالانہ فی ایکڑ قیمتوں پر نظرثانی کی گئی جس کے تحت گندم پر 400 روپے، چنا پر 200 روپے، دالوں پر 400، تیل کے بیجوں کیلئے 400 روپے، چارے کیلئے ربیع اور خریف دونوں کیلئے 400 روپے کا اضافہ کیا گیا، ان کے علاوہ حکومت پنجاب نے مختص باغوں کیلئے سالانہ فی ایکڑ دوہزار روپے اور 2250 روپے سرکاری سطح پر آبپاشی کیلئے پانی کی قیمت مقرر کی قبل ازیں پانی کی خریف کے موسم میں سالانہ پانی کی فی ایکٹر قیمت 80روپے اور ربیع کیلئے125 روپے تھی، تاہم پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں مختلف علاقوں میں پانی قیمتیں 400 روپے اضافے تک وصول کر رہی ہیں، اس کے باوجود نظرثانی قیمتیں نچلی ترین سطح پر ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل (سی سی آئی) نے 2018ء میں قومی آبی پالیسی کی منظوری دے دی تھی لیکن آبپاشی کے صوبائی محکمے مطلوبہ قیمتیں وصول نہیں کر رہے ہیں، موقف یہ ہے کہ تیکنیکی معاونت کیلئے ورلڈ بینک سے رجوع کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ٹیم سندھ طاس آباشی نظام کا جائزہ لے گی جبکہ وہ علاقے جو اس نظام کے تحت نہیں آتے جن میں بلوچستان شامل ہے ان کیلئے علیحدہ منصوبہ تیار کیا جائے گا۔ ورلڈ بینک کی ٹیم فصلوں کیلئے مطلوبہ پانی کا بھی جائزہ لے گی اور اندازہ لگائے گی فصلوں کیلئے پانی کی کس قدر مقدار مطوب ہے۔ یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ فصلوں کے وقت کس قدر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، جائزے میں سماجی سروے کا بھی احاطہ کیا جائے گا، کسان پانی کی کس حد تک قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہیں۔