خضدار/اسلام آباد/کوئٹہ(نمائندہ جنگ / ایجنسیاں)بلوچستان کے ضلع خضدارمیں آرمی پبلک اسکول کی بس پر خودکش حملہ‘گاڑی مکمل تباہ ‘ قریبی دکان اور ٹرک کو بھی نقصان ‘3 بچیوں سمیت 5افرادشہید‘39بچوں سمیت 53 زخمی ‘8کی حالت نازک ‘اموات میں اضافے کا خدشہ‘بعض ذرائع کے مطابق شہید ہونیوالوں کی تعداد 6 ہے۔امریکا ‘چین اور اقوام متحدہ کا اظہار مذمت ‘وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈمارشل سیدعاصم منیرکا کوئٹہ کا ہنگامی دورہ ‘زخمیوں کی عیادت کی ‘وزیر اعظم اور آرمی چیف نے اس بات کو اجاگر کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ قوم غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اس کے منطقی اور فیصلہ کن انجام تک پہنچانے کے لئے ہندوستان کی جارحیت کے خلاف حال ہی میں ظاہر کئے گئے مضبوط عزم کا مظاہرہ کرے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے اعزاز میں ایوان صدر میں منعقد ہونے والی تقریب موخر‘ قومی اسمبلی میں انڈیا کے خلاف مذمتی قرارداد منظور‘ صدر مملکت آصف علی زرداری نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول جانے والے معصوم بچوں پر حملہ انسانیت سوز اور گھنائونا جرم ہے‘شہباز شریف نے بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کوانجام تک پہنچا کر دم لیں گے‘ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آرکے مطابق ہندوستان کے دہشتگرد نیٹ ورک نے بلوچستان میں اپنی پراکسی تنظیموں کے ذریعے یہ بزدلانہ حملہ کروایاہے‘سرکاری ذرائع کے مطابق واقعہ میں 30کلوبارودی مواداستعمال کیا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق خضدارمیں آرمی پبلک اسکول کی بس کو دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں آرمی پبلک اسکول خضدارکے تین بچوں سمیت 5افراد شہید اور 53زخمی ہوگئے‘ دھماکا اتنا شدید تھاکہ گاڑی مکمل طور تباہ ہوئی‘ قریب واقعہ ایک دکان اور ایک ٹرک کو بھی نقصان پہنچا‘ زخمیوں کو پہلے سی ایم ایچ خضدار اور بعد ازاں شدیدزخمیوں کو کوئٹہ منتقل کردیا گیا‘ معصوم بچوں کیشہادت پر علاقے میں سوگ کا سماں رہا‘ بدھ کی علی الصبح آرمی پبلک اسکول خضدارکی بس پر اس وقت بم کا دھماکا ہوا جب گاڑی بچوں کو اٹھانے زیرو پوائنٹ کے قریب پہنچی تھی‘ سرکاری ذرائع دھماکے کو خود کش قرار دے رہے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ دھماکے میں تیس کلو سے زائد بارود استعمال کیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر خضدار کے مطابق بس پر خودکش حملہ کیا گیا۔ ایک عینی شاہد کے مطابق دھماکا اتنا زور دار تھا کہ بس سڑک کے کنارے سے دور جا کر الٹ گئی اور آگ لگ گئی، سکیورٹی اہلکاروں اور امدادی کارکنوں نے بروقت پہنچ کر بچوں کو باہر نکالا۔ جائے وقوع پر موجود ایک پولیس اہلکار نے برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایاکہ جس مقام پر دھماکہ ہوا وہ خضدار شہر سے نو سے 10 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ایک چھوٹی گاڑی نے اسکول بس کو ہٹ کیا جس میں بس مکمل تباہ ہو گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق دھماکے میں اے پی ایس میں زیر تعلیم چار بچے ایشا سلیم ‘سمیعہ اللہ دین ‘حفصافتخارجبکہ ڈرائیور اقبال احمد اورہیلپر قدیر احمد جاں بحق ہوئے ۔شدید زخمی 14 بچوں کو بذریعہ ہیلی کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ دھماکا اتنا شدید تھاکہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی ۔وزیراعلیٰ بلوچستان اور کمانڈر کوئٹہ کے مطابق واقعہ میں تین معصوم بچے اور دو فوجی جوان شہید اور 39 معصوم بچوں سمیت 53 زخمی ہوئے جن میں سے 8 کی حالت نازک ہے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خضدار میں اسکول بس پر حملے میں 3 بچوں سمیت 5 افراد شہید اور متعدد بچے زخمی ہوئے ۔ یہ بزدلانہ حملہ بھارت کے دہشت گرد نیٹ ورک نے اپنی پراکسی تنظیموں سے کروایا‘بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی مسلح افواج، پوری قوم کی حمایت کے ساتھ بھارت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا ہر سطح پر قلع قمع کریں گی‘اس بزدلانہ حملے کے منصوبہ ساز، سہولت کار اور حملہ آوروں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘بھارتی ریاستی دہشت گردی کا یہ مکروہ چہرہ عالمی برادری کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت آپریشن ’بنیان مرصوص‘ میں عبرت ناک شکست کے بعد بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت، بدامنی پھیلانے کے لیے اپنے ایجنٹوں کو استعمال کر رہا ہے۔ادھرایک بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشت گردوں کا اسکول بس میں معصوم بچوں پر حملہ ان کی بلوچستان میں تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے، دہشت گردوں نے اسکول بس پر حملہ کرکے درندگی کی تمام حدیں پار کرلیں، بھارتی سرپرستی میں پلنے والے ان دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ بھارتی حمایت یافتہ ان دہشت گردوں کے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی، معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔اپنے بیان میں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسکول بس پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دھماکا دشمن کی ملک میں عدم استحکام پیدا کرنیکی گھناوٴنی سازش ہے۔معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے درندے کسی رعایت کے مستحق نہیں، قوم کے اتحاد سے ہر سازش کو ناکام بنائیں گے۔پاکستان میں امریکا کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر نے کہا ہے کہ ہم خضدارمیں اسکول بس پر بے رحمانہ اور ناقابلِ تصور حملے کی مذمت کرتے ہیں۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ بےگناہ بچوں کا قتل سمجھ سے باہر ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ترجمان چیف آف ایڈوکیسی اینڈ کمیونیکیشنز کیرن ریڈی نے کہا ہے کہ یونیسیف خضدار میں اسکول بس پر حملے کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بس بہت ہوچکا، یہ المناک تشدد اور بے معنی تکلیف ختم ہونی چاہیے اور بچے کسی بھی صورت میں تشدد کا نشانہ نہیں بننے چاہئیں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سبزی منڈی چوکی پر دہشتگردوں نے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 2 پولیس اہلکار شہید جبکہ ایک زخمی ہو گئے۔ دہشتگردوں نے رات گئے ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا ، جوابی کارروائی پر حملہ آور فرار ہوگئے،خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی) ذوالفقار حمید کے مطابق حملے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا‘۔آئی جی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے رات گئے ہینڈ گرنیڈ سے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں چوکی کو نقصان پہنچا، پولیس کی جوابی کارروائی سے حملہ آور بڑے نقصان کے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے اورحملہ آور فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کو گولیاں لگی ہیں وہ زخمی ہیں، چند دن قبل مذکورہ علاقے میں پولیس کارروائیوں میں دہشتگردوں کے 3 کمانڈر مارے گئے تھے۔