غزہ ، اسرائیلی سفاکیت جاری ، بمباری میں مزید 51فلسطینی شہید

03 جون ، 2025

غزہ (اے ایف پی، جنگ نیوز) غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کی سفاکیت کا سلسلہ جاری رہا ، بمباری میں مزید 51فلسطینی شہید اورسیکڑوں زخمی ہوگئے، اسرائیلی طیاروں نے شمالی غزہ میں ایک مکان پر بمباری کردی جس کے نتیجے میں 3خواتین اور 6بچوں سمیت 14افراد شہید ہوگئے جبکہ 20افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں ۔ اسرائیلی بمباری سے مردہ افراد بھی محفوظ نہ رہ پائے، اسرائیلی طیاروں نے دیر البلاح میں قبرستان اور مسجد پر بھی بمباری کردی ۔اسرائیلی فوج نے خان یونس کے رہائشیوں کو علاقہ خالی کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ خان یونس میں حماس آپریٹ کررہی ہے ۔ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتیرس نے غزہ میں ایک روز قبل امریکی حمایت یافتہ امدادی مرکز کے قریب درجنوں فلسطینیوں کی شہادت اور زخمی ہونے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کردیا ہے ۔ غزہ کے محکمہ شہری دفاع نے کہا کہ اتوار کے روز جنوبی شہر رفح میں امداد کی تقسیم کے مقام کے قریب اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم 31افراد شہید اور 176زخمی ہوئے، جبکہ قریبی اسپتالوں میں طبی عملے نے بھی گولیوں سے زخمی ہونے والے متاثرین کی آمد کی اطلاع دی۔اسرائیلی فوج نے اس بات کی تردید کی کہ اس نے لوگوں پر "اس مقام کے قریب یا اس کے اندر ہوتے ہوئے" فائرنگ کی۔اسرائیلی فوج نے پیر کے روز کہا کہ اس نے یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو روک لیا، جب کہ یروشلم کے آسمانوں پر زوردار دھماکے سنے گئے۔فوج نے ایک بیان میں کہا، "اسرائیل کے کئی علاقوں میں تھوڑی دیر قبل بجنے والے سائرن کے بعد، یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو روک لیا گیا۔"یمن کے حوثیوں نے اکتوبر 2023میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے، جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا، بارہا اسرائیل پر میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔پیر کی یہ روک تھام اس سے ایک دن پہلے ہونے والی ایک اور روک تھام کے بعد ہوئی ہے، جس کی ذمہ داری ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے قبول کی تھی۔ حوثیوں، جو کہتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی میں کارروائی کر رہے ہیں، نے مارچ میں ختم ہونے والی دو ماہ کی غزہ جنگ بندی کے دوران اپنے حملے روک دیے تھے۔