ایران اسرائیل جنگ رکوانے کی کوشش ، جنیوا میں مذاکرات اور سلامتی کونسل کا اجلاس آج ، حملے رکنے تک بات نہیں ہوگی ، ایرانی نائب وزیر خارجہ

20 جون ، 2025

تہران ، واشنگٹن، ماسکو، کراچی(اے ایف پی،نیوز ڈیسک)ایران اور اسرائیل جنگ رکوانے کی کوششیں تیز ہوگئیں، ایران جوہری پروگرام پر جنیوا میں مذاکرات آج ہوں گے ، مذاکرات میں برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے وزراء خارجہ شریک ہوں گے ، ایرانی نائب وزیرخارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملے رکنے تک کوئی بھی مذاکرات نہیں کرے گا، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایران کیخلاف فوجی کارروائی سے پیچھے ہٹ جائیں جبکہ روسی اور چینی صدور نے بھی متنبہ کیا ہے کہ تنازع میں امریکی فوجی مداخلت کے سنگین اور ناقابل بیان نتائج ہوں گے ، دونوں صدور نے ٹیلی فونک گفتگو میں ایران پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ،صدر پیوٹن نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے حملوں کے ایک ہفتے سے کوئی فوجی مدد نہیں مانگی ہے، پریس کانفرنس کے دوران یہ پوچھے جانے پر کہ اگر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر دیا گیا تو روس کیا اقدامات کرے گا،پیوٹن نے کہاخامنہ ای کے قتل کی ممکنات پر بھی بات نہیں کرنا چاہتا، دوست ملک ایران نے اب تک عسکری مدد نہیں مانگی ہے، دوسری جانب ایران نے اسرائیل پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے ، میزائل حملوں میں اسرائیلی فوجی کمانڈ اینڈ انٹیلی جنس ہیڈکوارٹرز، اسٹریٹجک مراکز کو نشانہ بنایا گیا ہے ،حملوں میں 126اسرائیلی زخمی ہوگئے ہیں، اسرائیلی وزیر دفاع کاٹز نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائل حملوں کے بعد ایرانی سپریم لیڈر کو زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا کہنا ہے امریکامیدان میں آچکا ہے،اللہ ایرانی قوم کو فتح دے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ وہ ایران میں فوجی جنگ میں شامل ہونے کے آپشن پر غور کررہے ہیں ۔حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے اپنی خاموشی توڑ دی،انہوں نے اسرائیل کے حملوں اور امریکی دھمکیوں کے خلاف ایران کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایک طویل بیان جاری کیا۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی یہ تجویز کہ امریکا خامنہ ای کو قتل کر سکتا ہے، خطے کے تمام لوگوں کے خلاف ایک "جارحیت" ہے۔ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ ایرانی دارالحکومت کے وسط، مشرق اور مغرب میں "کامیاب" فضائی دفاعی کارروائیاں جاری ہیں۔وائٹ ہاؤس نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران "چند ہفتوں" کے اندر جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس بات پر بحث کر رہے تھے کہ آیا اسلامی جمہوریہ کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بتایا، "ایران کے پاس جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے درکار تمام چیزیں موجود ہیں۔ انہیں صرف رہبرِ اعلیٰ کے ایک فیصلے کی ضرورت ہے اور اس ہتھیار کی تیاری مکمل کرنے میں چند ہفتے لگیں گے۔"امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ وہ آئندہ دو ہفتوں کے اندر ایران پر حملہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کریں گے، مذاکرات کے "اہم" امکان کی وجہ سے، جب کہ اسرائیل اور اس کے علاقائی حریف کے درمیان ساتویں دن بھی فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے ایک بریفنگ میں ٹرمپ کا ایک پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا کے "براہ راست ملوث" ہونے کے بارے میں "بہت قیاس آرائیاں" ہو رہی ہیں۔