جنگلی حیات کا بچائو،پنجاب میں اپنی طرز کا پہلا ایکو ٹورازم منصوبہ متعارف

21 جون ، 2025

لاہور (آصف محمود بٹ ) جنگلی حیات کا بچائو،پنجاب میں اپنی طرز کا پہلا ایکو ٹورازم منصوبہ متعارف۔چھانگا مانگا، اچھالی اور چشمہ میں فطرت سے ہم آہنگ تفریحی مراکز قائم کئے جائیں گے۔ اس منصوبے کا مقصد جنگلات، آبی ذخائر اور قدرتی مناظر کو محفوظ رکھتے ہوئے فطرت دوست، ثقافتی لحاظ سے مربوط اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت پر مبنی سیاحت کو فروغ دینا ہے۔ منصوبے کا اطلاق ابتدائی طور پر تین اہم ماحولیاتی مقامات چھانگا مانگا، اچھالی ویٹ لینڈ کمپلیکس اور چشمہ جھیل پر کیا جا رہا ہے۔ ان تمام مقامات کو اس انداز سے ترقی دی جا رہی ہے کہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ مقامی معیشت کو سہارا اور سیاحوں کو ماحول دوست تفریح فراہم کی جا سکے۔چھانگامانگا، جو دنیا کے قدیم ترین انسان ساختہ جنگلات میں سے ایک ہے، 12,500 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے اور سالانہ تقریباً 12 لاکھ سیاح اس کا رخ کرتے ہیں۔ منصوبے کے تحت یہ تعداد بڑھ کر 15 لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ یہاں بوٹانیکل برڈ پیراڈائز، منی زو، جانوروں کے احاطے، جنگل سفاری، ٹرام سروس، واچ ٹاورز اور جیپ ٹریکس جیسے فطرت سے ہم آہنگ تفریحی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انفارمیشن سینٹر، ایمفی تھیئٹر، ثقافتی بازار، ہیریٹیج واک اور مخصوص پکنک ایریاز جیسی سہولیات سیاحوں کو تفریح، سیکھنے اور ثقافت سے جڑنے کا موقع فراہم کریں گی۔اسی نوعیت کی ترقیاتی سرگرمیاں اچھالی ویٹ لینڈ کمپلیکس (ضلع خوشاب) اور چشمہ جھیل (ضلع میانوالی) پر بھی جاری ہیں۔ اچھالی ویٹ لینڈ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ رامسر سائٹ ہے جو مہاجر آبی پرندوں کے لیے پناہ گاہ کا کردار ادا کرتی ہے، جبکہ چشمہ جھیل 340 مربع کلومیٹر پر پھیلی ایک حیاتیاتی خزانہ ہے جہاں سالانہ ایک لاکھ سے زائد آبی پرندے پائے جاتے ہیں۔