ٹیکس فراڈ میں گرفتاری، قانونی دفعات پہلے سے موجود ،چیئرمین ایف بی آر

21 جون ، 2025

اسلام آباد( رپورٹ حنیف خالد)چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا ہے کہ ٹیکس فراڈ میں گرفتاری متعلق قانونی دفعات پہلے سے موجود ہیں ، مجوزہ ترمیم سے افسر کے گرفتاری کے اختیار محدود اور ابتدائی انکوائری کا پابند بنائے گی،حالیہ ترامیم میں جہاں ضرورت ہو مزید بہتری لانے کیلئے تیار ہیں ۔انھوں نے مالیاتی بل 2025 کے تحت ٹیکس قوانین میں حالیہ متعارف کردہ ترامیم سے متعلق تحفظات کا ازالہ کرنے کیلئے اپنے جاری کردہ بیان میں واضح کیا ہے کہ مالیاتی بل اس وقت قومی اسمبلی اور مختلف کاروباری حلقوں میں زیر بحث ہے۔ ڈیجیٹل اور پرنٹ میڈیا میں گردش کرنے والی متعدد خبروں سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ مالیاتی بل میں کی گئی کچھ ترامیم کے بارے میں عوام میں ابہام پایا جاتا ہے ۔مثال کے طور پر سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کی دفعہ A 37 کے تحت ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری سے متعلق قانونی دفعات پہلے ہی موجود ہیں جن کے تحت مذکورہ شخص کو 24 گھنٹوں کے اندر خصوصی جج کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ تاہم مجوزہ ترمیم اب افسر کے گرفتاری کے اختیار کو محدود کرتی ہے اور اسے کمشنر ان لینڈ ریونیو کی منظوری کے بعد ابتدائی انکوائری کرنے کا پابند بناتی ہے۔ صرف اس انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر کمشنر ان لینڈ ریونیو تفتیش کی اجازت دے گا جس سے تفتیشی افسر کو ضابطہ فوجداری 1898 (ایکٹ V آف 1898)کے تحت پولیس اسٹیشن کے انچارج جیسے اختیارات حاصل ہوں گے۔ گرفتاری صرف کمشنر ا ن لینڈ ریونیو کی پیشگی منظوری کی صورت میں ممکن ہو گی ۔ نئی ترامیم گرفتاری کے عمل میں شفافیت کو یقینی بناتی ہیں کیونکہ ان میں کمشنر ان لینڈ ریونیو کی منظوری سے ابتدائی انکوائری اور باقاعدہ تفتیش لازمی قرار دی گئی ہے۔ایف بی آر کے چیئرمین نے حالیہ ترامیم پر تبادلہ خیال کرنے اور جہاں ضرورت ہو ان میں مزید بہتری لانے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ مثال کے طور پرگرفتاری سے متعلق دفعات میں یہ شرط شامل کی جا سکتی ہے کہ کسی بھی گرفتاری سے پہلے ایک سے زیادہ سینئر افسران سے اجازت لی جائے۔ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی قائم کی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی وزیرِ خزانہ و ریونیو کریں گے، جو مجوزہ ترامیم کا دوبارہ جائزہ لے کر ایسے حفاظتی اقدامات تجویز کریں گے جو ان اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کو روک سکیں۔کمیٹی کے دیگر ارکان میں وزیر قانون، وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن، وزیر مملکت برائے خزانہ، وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار اور چیئرمین ایف بی آر شامل ہوں گے۔ کمیٹی اپنی سفارشات جلد از جلد وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔