KPکا آڈٹ، 347ارب کے ٹھیکوں اور ادائیگیوں میں بے ضابطگیاں

24 جون ، 2025

اسلام آباد (انصار عباسی) آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے سال 2024-25 کیلئے جاری کردہ اپنی آڈٹ رپورٹ میں خیبر پختونخوا حکومت کے مالی معاملات میں سنگین بے ضابطگیوں کا پتہ لگایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 147؍ ارب روپے مالیت کے 8؍ ٹھیکے غیر شفاف انداز میں دیے گئے جو کہ مالی نظم و ضبط کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مالی سال 2023-24 کا احاطہ کرنے والی اس رپورٹ میں مجموعی طور پر 200؍ ارب روپے سے زائد مالیت کی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں فرضی اخراجات، مشتبہ ادائیگیاں، خورد برد، زائد ادائیگیاں، غیرقانونی خریداری، سرکاری محصولات کی عدم وصولی یا خزانے میں جمع نہ کرانا شامل ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق کلیدی بے ضابطگیاں درج ذیل ہیں: انتظامی کوتاہیاں اور سروس ڈلیوری کے مسائل: 9 ارب روپے (7 کیسز)، فرضی اخراجات، مشکوک ادائیگیاں، اور خورد برد: 98 کروڑ 20 لاکھ روپے (22 کیسز)، غیر منظم بجٹ سازی اور فنڈز کا غیرقانونی اجراء: 14 ارب روپے (3 کیسز)، غیرقانونی، بلا اجازت اور بلاجواز اخراجات: 4 ارب روپے (23 کیسز)، ٹھیکوں کی غیر شفاف الاٹمنٹ: 147 ارب روپے (8 کیسز)، تعمیراتی منصوبوں میں زائد ادائیگیاں: 2 ارب 80 کروڑ روپے (36 کیسز)، سرکاری خزانے کو نقصان: 11 ارب 60 کروڑ روپے (40 کیسز)، محصولات کی عدم وصولی یا خزانے میں جمع نہ کرانا: 41 ارب روپے (50 کیسز)، تنخواہوں کی زائد ادائیگی اور غیرقانونی بھرتیاں: 95 کروڑ روپے (17 کیسز)، غیرقانونی خریداری اور سرکاری اثاثوں کی بلا اجازت تحویل: 2 ارب 90 کروڑ روپے (15 کیسز)۔