ایران کے امریکی بیسز پر حملے، خطے میں ٹمپرچر مزید بڑھ گیا، تجزیہ کار

24 جون ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیوکے پروگرام ’’آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ‘‘میں میزبان نےاپنے تجزیئے میں کہا کہ ایران کی طرف سے امریکہ کی بحرین، قطر ، کویت اور عراق کی چار بیسز پر حملے کئے گئے ہیں، خطے میں ٹمپرچر مزید بڑھ گیا ،سعودی صحافی خالد المعینا نے کہا کہ میں جدہ میں موجود ہوں اور ایسٹرن کے صوبے کے پاس گڑ بڑ ہو رہی ہے ایرانی ایکشن کافی سرپرائزنگ تھا قطر ہمیشہ سے نیوٹرل رہا ہے اور عالمی محفلوں میں ایران کی سپورٹ کی ہے،ایرانی صحافی جون حسین نے کہا کہ تہران میں تقریباً دس میزائل حملے ہوئے ہیں اور ایران کے ایئر ڈیفنس نے کچھ میزائل انٹرسیپٹ بھی کئے ہیں ۔میزبان شاہزیب خانزادہ نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق قطر میں امریکی اڈوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیاگیا ہے ایران نے قطر میں امریکی اڈوں پر چھ میزائل فائر کیے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا یہ رپورٹ کر رہا ہے کہ ایران کی طرف سے امریکہ کی بحرین، قطر ، کویت اور عراق کی چار بیسز پر حملے کیے گئے ہیں اس خطے میں ٹمپرچر مزید بڑھ گیا ہے۔ ہمارے ذرائع سے کچھ ویڈیوز ہمیں موصول ہوئی ہیں ہمیں بتایا گا ہے کہ کچھ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا ۔ سعودی عرب میں امریکی بیسز پر سائرن بجنا شروع ہوگئے ہیں۔ پاسدارن انقلاب کی طرف سے حملوں کی تصدیق کر دی گئی ہے۔سی این این کے مطابق امریکہ کے دو آفیشلز نے یہ بتایا ہے کہ قطر اور عراق میں امریکی اڈوں پر میزائل فائر کیے گئے ہیں جنہیں ٹریک کیا جارہا ہے۔ ایران کی طرف سے دعویٰ سامنے آرہا ہے کہ قطر میں امریکی ایئر بیس پر اتنے ہی بم استعمال کیے جتنے امریکہ نے جوہری تنصیبات پر استعمال کیے تھے چودہ بم ہی داغے گئے ہیں۔ ایک طرف قطر مذمت کر رہا ہے کہ ہم جواب کا حق محفوظ رکھتے ہیں اور ایران کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد قطر کو نقصان پہنچانا نہیں ہے۔ امریکی اخبار کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ قطر کو اس حملے سے آگاہ کر دیا گیا تھا قطر کا کہنا ہے اس حملے میں نقصان جان کی حد تک نہیں ہوا ہے اور حملے سے پہلے بیس کو خالی کرالیا گیا تھا۔ عرب میڈیا رپورٹ کر رہا ہے تہران میں زور دار دھماکے سنے گئے ہیں ۔ایرانی فوج نے کہا ہے کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے خطرے میں ہیں ایرانی فوج ایران کے خلاف مزید کسی بھی جارحانہ اقدام کا طاقتور جواب دے گی حملہ کر کے بھاگ جانے کا دور ختم ہوا۔سعودی صحافی خالد المعینا نے کہا کہ میں جدہ میں موجود ہوں اور ایسٹرن کے صوبے کے پاس گڑ بڑ ہو رہی ہے ایرانی ایکشن کافی سرپرائزنگ تھا قطر ہمیشہ سے نیوٹرل رہا ہے اور عالمی محفلوں میں ایران کی سپورٹ کی ہے سعودی عرب کے وزیر دفاع وہاں گئے تھے سمجھ میں نہیں آرہا ہے میں سمجھتا ہوں ایران کی چین آف کمانڈ میں کافی ڈیمیج ہوچکا ہے اس لیے ہر شخص وہاں فیصلے لے رہا ہے ۔ میں نہیں سمجھتا سب جگہ میری بات ہوئی ہے سائرن احتیاط تدبیر کے طو رپر بجائے گئے ہوں گے ۔ سعودی عرب نے ایران کے لیے جو کچھ کیا ہے 56 ہزار ایرانی حاجی یہاں ٹھہر رہے ہیں وہ واپس نہیں گئے ہیں ابھی تک ان کو انہوں نے فل فلیج دیا ہے میں نہیں جانتا یہ کیا ہوا ہے اور ا سکے پیچھے کون ہے۔