ایران کیلئے پاکستان کی مکمل حمایت، امریکا کا نام لئے بغیر حملے پر اظہار تشویش

24 جون ، 2025

اسلام آباد(نیوز رپورٹر/مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی سلامتی کمیٹی نے امریکا کا نام لئے بغیر فردو، نطنز اور اصفہان میں ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد مزید کشیدگی کے خدشات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان حملوں کو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی قراردادوں، عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیاہے۔قومی سلامتی کمیٹی نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیاجس کے تحت وزیر اعظم شہباز شریف اور دفتر خارجہ نے ایرانی جوہری تنصیبات پر امریکی فضائی حملوں کی مذمت کی تھی‘قومی سلامتی کمیٹی نے اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج خود دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے ایران کے دفاع کے حق کی توثیق کی۔اجلاس میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے اپنی کوششیں اور اقدامات جاری رکھے گا۔قومی سلامتی کمیٹی نے تمام متعلقہ فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے اس تنازع کا حل تلاش کریں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس پیر کو منعقد ہوا جس میں ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی صورت حال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور اس امر پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ فوجی حملے اس وقت کیے گئے جب ایران اور امریکا کے درمیان تعمیری مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔ کمیٹی نے ان غیرذمہ دارانہ اقدامات کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیا جو ایک وسیع تر تنازع کو ہوا دے سکتے ہیں اور بات چیت اور سفارت کاری کے مواقع کو کمزور کر رہے ہیں۔کمیٹی نے ایران میں بے گناہ جانوں کے ضیاع پر ایرانی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔اجلاس میں پاکستان کی متعلقہ فریقین سے قریبی سفارتی مشاورت کی پالیسی کو دوبارہ واضح کیا گیا ‘کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ تمام فریقین بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی سے متعلق قوانین کی مکمل پاسداری یقینی بنائیں۔