لاہور(آصف محمود بٹ ) وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) میں بدعنوانی اور لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (LESCO) ملازمین سے مبینہ گٹھ جوڑ کے الزامات پر وزارت داخلہ نے ادارے کے 8سینئر افسران کو فوری طور پر معطل کر دیا، افسران پر بدعنوانی میں ملوث ہونے، شکایات کو دبانے، اور غیرقانونی مالی معاملات کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ معطل کیے گئے افسران میں ایک ڈپٹی ڈائریکٹر (گریڈ 18) اور سات اسسٹنٹ ڈائریکٹرز (گریڈ 17) شامل ہیں، جن پر لاہور میں ایف آئی اے کے انسدادِ بدعنوانی سرکل کے دوران سنگین بے ضابطگیوں اور سرکاری اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔یہ معطلیاں ان دو اعلیٰ سطح کی انکوائری رپورٹس کی روشنی میں کی گئی ہیں جو سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان اور ایڈیشنل سیکریٹری (ایڈمن) سہیل حبیب تاجک کی سربراہی میں تیار کی گئیں۔ ان رپورٹس میں مبینہ طور پر ایف آئی اے اور لیسکو کے بعض افسران کے درمیان منظم کرپشن اور ملی بھگت کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں جن کے باعث پہلے ہی 11 جونیئر افسران (انسپکٹرز اور سب انسپکٹرز) کو گزشتہ روز معطل کیا جا چکا ہے۔معطل ہونے والے سینئر افسران میں محمد صابر (ڈپٹی ڈائریکٹر، گریڈ 18) جبکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹرز میں ندیم اختر، شیراز عمر، ذیشان کھوکھر، ام البنین نووی، ذوار احمد، رانا فیصل اور نعیم اختر شامل ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ معطلی کے سرکاری احکامات کے ایک ماہ گذر جانے کے باوجود یہ تمام افسران مختلف شہروں جیسے لاہور، کراچی اور دیگر مقامات پر اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے۔