ڈیجیٹل کرنسی کے لیے تجرباتی منصوبہ، نئے شعبے میں خطرات بھی ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک

10 جولائی ، 2025

کراچی (نیوز ڈیسک) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی کیلئے ایک تجرباتی منصوبہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے ، ورچوئل اثاثوں کے ضابطہ کار کے لیے قانون سازی کو حتمی شکل دی جارہی ہے ۔ سنگاپور میں منعقدہ نیکسٹ ایشیا سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ ہم اسٹیٹ بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کے حوالے سے اپنی صلاحیت کو مستحکم کر رہے ہیں اور جلد ہی ایک پائلٹ پروگرام متعارف کرانے کی امید رکھتے ہیں۔وہ اس موقع پر سری لنکا کے مرکزی بینک کے گورنر پی نندلال ویرا سنگھے کے ہمراہ ایک پینل گفتگو میں شریک تھے، جہاں جنوبی ایشیا میں مانیٹری پالیسی کے چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔جمیل احمد نے مزید کہا کہ ایک نیا قانون ورچوئل اثاثوں کے شعبے کے لائسنسنگ اور ریگولیشن کی بنیاد فراہم کرے گا ، اسٹیٹ بینک پہلے ہی کچھ ٹیکنالوجی شراکت داروں سے رابطے میں ہے۔پینل گفتگو کے دوران گورنر جمیل احمد نے کہا کہ اس نئے اور ابھرتے ہوئے شعبے میں خطرات بھی ہیں اور مواقع بھی۔ لہٰذا ہمیں ان خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ان کا موثر انداز میں نظم و نسق تیار کرنا ہوگا اور ساتھ ہی ان مواقع کو ضائع ہونے سے بھی بچانا ہے۔مانیٹری پالیسی کے حوالے سے جمیل احمد نے کہا کہ مرکزی بینک اپنی سخت پالیسی جاری رکھے گا تاکہ مہنگائی کو درمیانی مدت کے لیے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے اندر لایا جا سکے۔گزشتہ ایک سال میں پاکستان نے اپنی پالیسی شرح سود 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے کم کر کے 11 فیصد کر دی ہے کیونکہ مہنگائی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ مئی 2023 میں 38 فیصد سے کم ہو کر جون میں 3.2 فیصد رہ گئی۔ مالی سال 2025 میں اوسط مہنگائی 4.5 فیصد رہی جو گزشتہ نو برسوں میں سب سے کم سطح ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہم اس سخت مانیٹری پالیسی کے نتائج دیکھ رہے ہیں، چاہے وہ مہنگائی میں کمی ہو یا بیرونی کھاتوں میں بہتری۔جمیل احمد نے مزید کہا کہ پاکستان ڈالر کی تنزلی سے زیادہ متاثر نہیں ہوگا کیونکہ ملک کا زیادہ تر بیرونی قرضہ ڈالر میں ہے اور صرف 13 فیصد قرضہ یوروبانڈز یا کمرشل ذرائع پر مشتمل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں کسی بڑے اثر کا اندیشہ نہیں، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر دو سال قبل 3 ارب ڈالر سے بڑھ کر اب 14.5 ارب ڈالر ہو چکے ہیں۔