ریاست مزید نوکریاں نہیں دے سکتی، رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کئے جارہے ہیں، حکومت

11 جولائی ، 2025

اسلام آباد (نمائندہ جنگ /ایجنسیاں)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکریٹریٹ نے سول سرونٹس ترمیمی بل 2024کی منظوری دے دی جس کے تحت گریڈ17سے گریڈ 22تک تمام سرکاری ملازمین اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہونگے‘کمیٹی نے رائٹ سائزنگ کے تحت یوٹیلیٹی اسٹورز سمیت دیگر اداروں کی بندش اور ہزاروں سرکاری ملازمین کو بے روزگار کرنے پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے تفصیلات طلب کرلیں ۔اجلاس میں سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے واضح کیاکہ ریاست اب مزید سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں‘ریاست اداروں کو براہ راست نہیں چلاسکتی کیوں کہ پہلے بھی ایسی کوششوں سے ملک کو نقصان ہواہے‘رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیں‘کئی حکومتی کمپنیاں جو کاروبار کر رہی ہیں وہ منافع بخش ثابت نہیں ہو رہیں‘ان کمپنیوں کو یا تو بند کیا جائے گا یا نجکاری کے ذریعے چلایا جائے گا‘ ۔جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکریٹریٹ کا اجلاس چیئرمین ملک ابرار کی صدارت میں منعقد ہوا‘ اجلاس میں سول سرونٹس ترمیمی بل سمیت چار بلوں پر غور کیا گیا‘ اجلاس کو سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے بتایا کہ حکومت کی رائٹ سائزنگ کمیٹی ایسے اداروں کو بند کرنے کیلئے کام کر رہی ہے جو حکومت پر مالی بوجھ ہیں‘وفاقی حکومت ملازمین کا بوجھ کم کرنا چاہتی ہے ٹیکنالوجی کے دور میں زیادہ اسامیوں کی ضرورت نہیں رہی ہے‘ایک افسر کے ساتھ 6 ماتحت عملہ ہوتا ہے ٹیکنالوجی کے بعد اب دو ماتحت تک محدود کر دیں گے‘یہ سرکاری ملازمین کو گھر بھیجنے کا پلان نہیں ہے ان سرکاری ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے گا‘ گریڈ ایک سے 5 تک کی آسامیاں آؤٹ سورس کر دی جائیں گی ‘سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے اس ترمیم میں سول سرونٹس کے اثاثے ڈکلیئر کرنے کی تجویز ہے‘حکومت کئی اداروں کو ختم اور کئی کا انضمام کرے گی ‘وفاقی اداروں کے زیادہ ملازمین کو سرپلس پول میں نہیں بھیج سکتے حکومت نے ان ملازمین کی ملازمت سے علیحدگی کیلئے پیکیج تیار کرنے کی تجویز دی ہے‘ رکن کمیٹی اسلم گھمن نے کہاکہ سب سے زیادہ ضرورت صوابدیدی اختیارات ختم کرنے کی ہے ‘سیکرٹری حضرات کے پاس ملازمین کی فوج ہوتی ہے ‘ایک کلرک ڈیپوٹیشن پر فوڈ انسپکٹر بن جاتا ہے اور لوٹ مار کرتا ہے‘ رکن کمیٹی شاہدہ بیگم نے کہاکہ رائٹ سائزنگ پالیسی سے کتنے لوگ متاثر ہوں گے اور انکے روزگار کیلئے حکومت کے پاس کیا متبادل پلان ہے‘ رکن کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہاکہ پاکستان اسٹیل مل اور یوٹیلیٹی اسٹورز کے ملازمین پریشان ہیں یہ لوگ بیروزگار ہو کر کہاں جائیں گے‘حکومت کا کام تو روزگار دینا ہوتا ہے ‘آغا رفیع اللہ نے کہاکہ حکومت نے تو وفاقی سیکرٹری لگانے کیلئے بھی اشتہار دے دیا ہے کیا بیوروکریسی ملک کو نہیں چلا سکتی ہے‘ اس موقع پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہاکہ حکومت کے پاس 400 خود مختار ادارے ہیں ان کو چلانے کیلئے ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے ‘اس وقت 8 اکنامک وزارتوں میں ٹیکنیکل عملے کو بھرتی کرنے کا پلان ہے‘ وزارت خزانہ، منصوبہ بندی، توانائی اور پیٹرولیم ڈویژن میں ٹیکنیکل اسامیوں پر ماہرین رکھیں گے‘ رکن کمیٹی طاہرہ اورنگزیب نے کہاکہ پاکستان کی اکثریت ایک سے 5 گریڈ کی سرکاری نوکری حاصل کر سکتی ہے ایسے لوگوں کو بیروزگار کیا گیا تو جرائم بڑھ جائیں گے‘ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے کہاکہ ہم بڑی تعداد میں لوگوں کو بیروزگار نہیں کر رہے ہیں‘فارغ ہونے والے سرکاری ملازمین کو بڑا گولڈن ہینڈ شیک پیکیج دیا جائے گا ‘اس موقع پر سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہاکہ رائٹ سائزنگ سے بیوروکریسی کا اختیار کم کیا جا رہا ہے‘وفاقی حکومت کے ملازمین کو سرپلس پول میں رکھا جائے گا‘ حکومت مزید نوکریاں فراہم نہیں کر سکتی ہے‘اسلم گھمن نے استفسار کیا کہ اس وقت کتنے او ایس ڈی افسران ہیں جس پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کہاکہ اس کی فہرست آئندہ اجلاس میں پیش کریں گے ۔