غزہ، فائربندی معاہدہ، حماس کا اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ، بمباری میں 82 شہید

11 جولائی ، 2025

غزہ، کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ میں فائر بندی معاہدے پر دوحہ میں جاری بالواسطہ مذاکرات پانچویں روز بھی جاری رہے، حماس نے معاہدے کیلئے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا اور امداد کی آزادانہ فراہمی کا کا مطالبہ کیا ہے،حماس نے 60روزہ فائر بندی کیلئے 10اسرائیلی قیدیوں کی رہائی پر مشروط آمادگی کا اظہار کیا ہے، دوسری جانب غزہ پر اسرائیلی بمباری کے دوران مزید 82 فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں، شہداء میں امداد کے منتظر 9 افراد بھی شامل ہیں۔ غزہ کے سب سے بڑے اسپتالوں کے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے جاری محاصرے کے باعث ایندھن کی قلت کی وجہ سے 100 سے زائد قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں اور 350 ڈائیلاسز کے مریضوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے وقت کی حد میں توسیع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہفتے یا اگلے ہفتے غزہ میں معاہدے کا "بہت اچھا موقع" ہے، لیکن حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے قطر میں بات چیت "مشکل" رہی ہے۔ یورپی یونین نے غزہ تک امداد کی رسائی بڑھانے کے لیے اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے۔ یہ معاہدہ، جس کا اعلان بلاک کے اعلیٰ سفارت کار نے جمعرات کو کیا، غزہ میں مزید خوراک کے ٹرکوں کے داخلے اور اضافی کراسنگ پوائنٹس کھولنے کا باعث بنے گا۔تفصیلات کے مطابق حماس کے رہنما باسم نعیم نے کہا ہے کہ عارضی فائر بندی معاہدے کیلئے اسرائیلی افواج کے غزہ سے مکمل انخلا اور غزہ میں امداد کی آزادانہ فراہمی پر اختلافات موجود ہیں، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ ہم نتائج کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ اسرائیل اور حماس نے اتوار کو بات چیت کا تازہ دور شروع کیا، جس میں نمائندے ایک ہی عمارت میں الگ الگ کمروں میں بیٹھے تھے۔