ریاست مزید نوکریاں نہیں دے سکتی، رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کئے جارہے ہیں، حکومت

11 جولائی ، 2025

اسلام آباد ( رانا غلام قادر)قومی اسمبلی کی کابینہ سیکرٹریٹ کی قائمہ کمیٹی نے "سول سرونٹس (ترمیمی) بل 2025" کی منظوری دے دی ہے۔ سیکریٹری کابینہ ڈویژن نے واضح کیاکہ ریاست اب مزید سرکاری نوکریاں فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں‘ کئی حکومتی کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں مگر منافع بخش نہیں ہیںان اداروں کو یا تو بند کیا جائے گا یا نجکاری کے ذریعے چلایا جائے گا‘رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت بیوروکریسی کے اختیارات محدود کیے جا رہے ہیںجبکہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن انعام اللہ دھا ر یجونے کمیٹی کو بتایا کہ ٹیکنالوجی کے دور میں زیادہ آسامیوں کی ضرورت نہیں رہی ہے‘سرکاری ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دیا جائے گا۔ گریڈ ایک سے 5 تک کی آسامیاں آوٹ سورس کر دی جائیں گی‘کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ہدایت کی ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری تنظیم نو اور محکموں کی سائز میں کمی (Rightsizing) کے نتیجے میں کم سے کم ملازمین کو برطرف کیا جائے۔کمیٹی نے مزید ہدایت کی کہ جو ملازمین زائد یا غیر ضروری قرار پائیں ان کو دیگر محکموں میں ایڈجسٹ کیا جائے۔ اس کے علاوہ جو ملازمین ممکنہ طور پر نوکری سے فارغ کیے جائیں گے، ان کے بہتر مفاد میں مراعاتی پیکیج تیار کیا جائے۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن انعام اللہ دھا ر یجونے کمیٹی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے انتظامی اصلاحات کا آغاز کیا ہے‘اصل قانون میں ترمیم لانے کا مقصد یہ ہے کہ وفاقی حکومت مؤثر اصلاحات لا سکے جس میں سرکاری ملازمین کی خدمات کو برقرار رکھا جا سکے یا ان کو اضافی ملازمین کے پول کے ذریعے ایڈجسٹ یا مراعاتی پیکیج کے تحت فارغ کیا جا سکے۔ کمیٹی نے بل کو بغیر کسی ترمیم کے منظور کر لیا۔کمیٹی نے "نیشنل اسکول آف پبلک پالیسی (ترمیمی) بل 2025" پر بھی غور کیا اور اسے بغیر کسی ترمیم کے منظور کیا۔کمیٹی نے "آسان کاروبار بل 2025" پر بھی غور کیا اور اسے بغیر کسی ترمیم کے منظور کر لیا۔ایڈیشنل سیکرٹری BOI نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان کو اپنا بیشتر ریگولیٹری نظام ورثے میں برطانوی دور سے ملاجو بالآخر یہ نظام ایک قسم کی "ریگولیٹری جامدگی" کا شکار ہو گیا۔اس صورتحال کو بہتر بنانے اور کاروبار میں آسانی فراہم کرنے کے لیے، غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے "آسان کاروبار بل" پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا ہے۔بل کے نافذ العمل ہونے کے بعد BOI میں ایک خصوصی یونٹ قائم کیا جائے گا جو ریگولیٹری نظام کے تحت تمام قوانین کو ایک ڈیجٹل پورٹل پر جمع کرنے کے اقدامات کریگا‘ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے بتایا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد کئی کام صوبوں کو منتقل کر د یےگئے۔ حکومت کئی اداروں کو ختم اور کئی کا انضمام کرے گی‘زیادہ ملازمین کو سرپلس پول میں نہیں بھیج سکتے۔ حکومت نے ان ملازمین کی ملازمت سے علیحدگی کیلئے پیکیج تیار کرنے کی تجویز دی ہے۔ وفاقی حکومت ملازمین کا بوجھ کم کرنا چاہتی ہے۔ ٹیکنالوجی کے دور میں زیادہ آسامیوں کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ ایک افسر کے ساتھ 6 ماتحت عملہ ہوتا ہے ٹیکنالوجی کے بعد اب دو ماتحت تک محدود کر دیں گے۔ یہ سارے ملازمین کو گھر بھیجنے کا پلان نہیں ہے۔ رکن کمیٹی اسلم گھمن نے کہا کہ سب سے زیادہ ضرورت صوابدیدی اختیارات ختم کرنے کی ہے۔ سیکرٹری حضرات کے پاس ملازمین کی فوج ہوتی ہے۔ ایک کلرک ڈیپوٹیشن پر فوڈ انسپکٹر بن جاتا ہے اور لوٹ مار کرتا ہے۔شاہدہ بیگم نے کہا کہ کتنے لوگ متاثر ہوں گے انکے روزگار کیلئے حکومت کے پاس کیا متبادل پلان ہے۔ آغارفیع اللہ نے کہا کہ اسٹیل مل اور یوٹیلیٹی اسٹورز کے ملازمین پریشان ہیں۔ یہ لوگ بیروزگار ہو کر کہاں جائیں گے‘ حکومت کا کام تو روزگار دینا ہوتا ہےلیکن اس نے ان کو نکالنا شروع کر دیا ہے۔ طا ہرہ اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کی اکثریت ایک سے 5 گریڈ کی سرکاری نوکری حاصل کر سکتی ہے۔ ایسے لوگوں کو بیروزگار کیا گیا تو جرائم بڑھ جائیں گے۔ سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے کہا کہ رائٹ سائزنگ سے بیوروکریسی کا اختیار کم کیا جا رہا ہے۔ کئی حکومتی کمپنیاں کاروبار کر رہی ہیں مگر منافع بخش نہیں ہیں۔