منافع باہر جانے اور ایل سی نہ کھلنے کے مسائل ختم،FBR کے اضافی اختیارات کا انکم ٹیکس سے تعلق نہیں وزیر خزانہ

15 جولائی ، 2025

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بار بار پیدا ہونے والے عدم استحکام سے بچنے کے لیے پاکستان کو جرات مندانہ اور بعض مشکل فیصلے کرنا ہوں گے‘بیرونی سرمایہ کاروں کا منافع باہر جانے، ایل سی نہ کھلنے کے مسائل ختم ہوگئے۔ 30 جون کو ختم مالی سال ملٹی نیشنلز کا 2.3 ارب ڈالر کا منافع باہر گیا ہے، ایف بی آر کے اضافی اختیارات کا انکم ٹیکس نہیں سیلز ٹیکس سے تعلق ہے‘حکومت کے پاس جتنی مالیاتی اسپیس تھی اتنا ریلیف تنخواہ داروں کو دے چکے ہیں‘ غذائی اشیاء کی قیمتیں کم زیادہ ہوتی رہتی ہیں، ملک بھر کے تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کو مذاکرات کے لیے 15 جولائی کو(آج )مدعوکیا ہے ۔کراچی میں اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کے ارکان سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ 19 جولائی کی ہڑتال سے متعلق تمام چیمبرز اور ایسوسی ایشنز کا موقف بھی سنیں گے اور اپنا موقف بھی سمجھائیں گے‘ محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ ایف بی آر کے اختیارات کا انکم ٹیکس سے کوئی تعلق نہیں، ایف بی آر کے اضافی اختیارات پر چیمبرز کے صدور سے اہم ملاقات ہوگی اور انہیں بھی سمجھائیں گے۔ ایف بی آر کے اضافی اختیارات 5کروڑ روپے سے زائد سیلز ٹیکس غبن کرنے والے فرد پر لاگو ہوں گے۔ ایف بی آر کے اضافی اختیارات کے خلاف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ بینکوں کی جانب سے اب نجی شعبے کو قرضوں میں اضافہ ہونا چاہیے۔24 سرکاری اداروں کو نجکاری کمیشن کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ریفنڈ مسائل کو جلد حل کر لیا جائے گا۔ترسیلات زر کا حجم قابل تحسین ہے اور آئندہ دنوں میں ملکی اشاریے مزید بہتر ہوں گے، رواں ماہ 75ارب روپے کے سیلز ٹیکس ری فنڈ ادا کر دیے گئے ہیں۔