پشاور( گلزار محمد خان )خیبر پختونخوا حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین صوبہ میں ایوان بالا انتخابات پر ڈیڈلاک کے خاتمہ اور بلامقابلہ انتخاب کیلئے خفیہ ابتدائی رابطوں اور مشاورت کا انکشاف ہوا ہے جبکہ اپوزیشن کی جانب سے بلامقابلہ انتخاب کیلئے نشستوں کی تقسیم کا فارمولا بھی پیش کردیا گیا ہے، اپوزیشن نے ایوان بالا کی11 میں سے 5 نشستیں مانگ لی ہیں تاہم بلامقابلہ انتخاب کیلئے حکومتی فارمولا کے بعد ہی معاملات آگے بڑھیں گے، اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ ن، جمعیت ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پارلیمنٹرین کا ملکر انتخابی میدان میں اترنے پر اتفاق، اے این پی کیساتھ رابطوں کا فیصلہ ، اپوزیشن نے ڈیڈلاک خاتمہ اور بلامقابلہ انتخاب کیلئے نشستوں کی تقسیم کا فارمولا تیارکرلیا ، حکومتی فارمولا کے بعد معاملات آگے بڑھیں گے ، اپوزیشن ذرائع نے ابتدائی رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلا مقابلہ انتخاب سے ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکنے کیساتھ سیاست و جمہوریت کے وقار میں اضافہ ہوگا ۔ الیکشن کمیشن نے ایک مرتبہ پھر خیبر پختونخوا سے ایوان بالا کی11خالی نشستوں پر انتخابات کا شیڈول کیا ہے جس کی روشنی میں 21جولائی کو صوبائی اسمبلی میں نئے سینیٹرز کے انتخاب کیلئے پولنگ ہوگی، ایوان بالا کی 11نشستوں کیلئے25امیدوار مدمقابل ہیں ،7جنرل نشستوں کیلئے16، ٹیکنوکریٹ اور خواتین کی دو ،دو نشستوں کیلئے بالترتیب5اور 4امیدوار میدان میں موجود ہیں تاہم انتخابات ہوں گے یا پھرنہیں اس حوالے سے غیر یقینی صورت حال ہے۔