نیشنل کمیشن فار سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس 24سال سے نہ ہوسکا

17 جولائی ، 2025

اسلام آباد (ساجد چوہدری) ہماری حکومتوں کا سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی و فروغ میں دلچسپی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ نیشنل کمیشن فار سائنس و ٹیکنالوجی جس کے چیئرمین وزیراعظم پاکستان ہیں کا اجلاس پچھلے 24سالوں سے نہیں ہو سکا ہے ،سرکاری دستاویز کے مطابق 1984میں قائم ہونے والے اس کمیشن کا پہلا اجلاس 22مارچ 1989میں ہوا تھا جبکہ دوسرا 2مئی 2000ء میں جبکہ تیسرا اور آخری اجلاس یکم دسمبر 2001ء میں ہوا تھا ، ذرائع کے مطابق نیشنل کمیشن فار سائنس و ٹیکنالوجی کے کام میں شامل ہے کہ پیشرفت کا ششماہی جائزہ لینا ، بین الوزارتی اور بین الصوبائی سائنس و ٹیکنالوجی پروگرام میں رابطہ ، پیداواری شعبے اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی کے مناسب روابط کو یقینی بنانا، سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کے بڑے منصوبوں یا پروگراموں پر غور ، بین الاقوامی تنظیموں / دوست ممالک کے ساتھ سائنس و ٹیکنالوجی میں روابط اور ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کا فروغ شامل ہے، ذرائع کے مطابق نیشنل کمیشن فار سائنس و ٹیکنالوجی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کوبھی کئی سال گزر گئے مگراب تک نیشنل کمیشن فار سائنس و ٹیکنالوجی (این سی ایس ٹی ) کے اجلاس کے انعقاد کا فیصلہ نہیں ہو سکا ،این سی ایس ٹی میں شامل اہم حکومتی عہدیداروں سے اس فورم کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے کہ کمیشن کے چیئرمین وزیراعظم ہیں ، وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی کمیشن کے وائس چیئرمین جبکہ ایکس آفیشو ممبران میں وفاقی وزراء جن میں خزانہ، نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ، صنعت و پیداوار ، فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ، ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن، صوبائی وزرائے انچارج سائنس و ٹیکنالوجی ، وفاقی سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی ، سیکرٹری آئی ٹی و ٹیلیکام ڈویژن سیکرٹری فیڈرل ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن شامل ہیں، چیئرمین پی ای سی ، چیئرمین ایچ ای سی ، چیئرمین اٹامک انرجی کمیشن، چیئرمین پی سی ایس آئی آر ، پاکستان اکیڈیمی آف سائنس کے صدر کے علاوہ دو نامزد کردہ سائنسدان، دو نامزد کردہ صنعتکار ، صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور چیئرمین پی سی ایس ٹی بھی کمیشن میں شامل ہیں ۔