چینی درآمد پر ٹیکس چھوٹ کی منظوری ،PAC کا ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کا نوٹس

17 جولائی ، 2025

اسلام آباد (نامہ نگار)پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومتی فیصلے کی روشنی میں چینی کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ کی منظوری پر ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کا نوٹس لیتے ہوئے ایس آر او پر وضاحت کیلئے چیئرمین ایف بی آر کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا۔پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں چینی کی درآمد پر سیلز ٹیکس میں کمی کا معاملہ اٹھا لیا گیا، رکن کمیٹی ریاض فتیانہ نے نشاندہی کی کہ ایف بی آر نے ایس آر او جاری کر کے چینی کی درآمد پر سیلز ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کر دیا، جو مخصوص عناصر کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا گیا۔ معین عامر پیرزادہ نے کہا کہ پہلے چینی برآمد کی جاتی ہے پھر درآمد کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ ثناء اللہ خان مستی خیل نے اسے دن دیہاڑے ڈاکہ اور مافیا کی سرپرستی قرار دیا۔ کمیٹی نے معاملے پر آئندہ اجلاس میں ایف بی آر اور وزارت تجارت کے حکام کو طلب کر لیا، پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین جنید اکبر کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ چیئرمین کمیٹی جنید اکبر خان نے کہا کہ ایکسپورٹ پر بھی پیسے لیتے ہیں اور چینی مہنگی بھی ہو جاتی ہے، اگلے اجلاس میں چیئرمین ایف بی آر کو بلائیں گے،نیشنل ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کا وفاق کی اجازت کے بغیر 5.6 ارب کے اخراجات کا معاملہ بھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں زیر بحث آیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ این ٹی سی نے وفاقی حکومت کی اجازت کے بغیر 5.6 ارب کے اخراجات کیے، این ٹی سی حکام نے اعتراف کیا کہ اس معاملے میں لائحہ عمل پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ آڈٹ حکام نے کہا کہ این ٹی سی بورڈ ایک روپے کا بجٹ منظور نہیں کرسکتا، این ٹی سی کی پچھلے 3 سال کا فنانشل ریکارڈ نہیں ، 3 سال سے این ٹی سی کا بجٹ منظور نہیں ہوا۔ سیکریٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام نے کہاکہ ہم اس وقت ہاؤس ان آرڈر کر رہے ہیں، یقین دہانی کراتا ہوں اس کے بعد یہ نہیں ہوگا، چیئرمین پی اے سی نے کہاکہ جو بھی سیکرٹری آتا ہے یہی بات کرتا ہے،