PTIمیں سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات شدت اختیار کر گئے

17 جولائی ، 2025

پشاور(ارشد عزیز ملک )پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا میں سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پر بڑے اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ پارٹی کے دیرینہ اور وفادار کارکنوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بااثر اور امیر شخصیات کو ٹکٹ دیے گئے ہیں، جو عمران خان کے اس بار بار کے دعوے کے برعکس ہے کہ پی ٹی آئی ہمیشہ کارکنوں کو ترجیح دے گی۔پی ٹی آئی نے سینیٹ انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں کو حتمی شکل دے دی ہے۔ جنرل نشستوں کے لیے پارٹی نے مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا خان آفریدی اور مولانا نور الحق قادری کو نامزد کیا ہے۔ ٹیکنوکریٹ نشست کے لیے سابق وفاقی وزیر اعظم خان سواتی دوبارہ میدان میں ہوں گے، جبکہ خواتین کی نشست کے لیے روبینہ ناز کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔وفادار اور دیرینہ کارکنوں میں سے کئی افراد کو ڈراپ کر دیا گیا، جن میں عرفان سلیم، عائشہ بانو اور خرم ذیشان شامل ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف پارٹی میں شدید احتجاج شروع ہوگیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنوں نے پشاور پریس کلب کے باہر دھرنا دیا اور مرکزی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے اعلان کیا کہ سرمایہ داروں کو ترجیح دینے اور حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کرنے کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار علی امین گنڈا پور صورتحال کو قابو کرنے کے لیے سرگرم ہوگئے ہیں اور انہوں نے محروم رہنے والے امیدواروں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے عرفان سلیم سے رابطہ کر کے کہا کہ آئندہ انہیں سینیٹ انتخابات میں ایڈجسٹ کیا جائے گا۔خیبر پختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات 21 جولائی کو ہوں گے، اور سیاسی رابطوں اور مشاورت کا عمل تیز ہوگیا ہے۔ صوبے کی حکمران جماعت پی ٹی آئی نے تمام نشستوں کے لیے امیدواروں کے نام فائنل کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک امیدوار شفقت ایاز کو پہلے ہی وزیر اعلیٰ کا معاون خصوصی مقرر کر کے ایڈجسٹ کیا جا چکا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ عمران خان نے خود عرفان سلیم کے نام کی منظوری دی تھی، لیکن بیرسٹر سیف کی جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد “خاص شخصیات” کے نام فائنل کیے گئے۔ اس احتجاج میں ایم این اے شیر علی ارباب نے بھی عرفان سلیم کے حق میں شرکت کی۔