جمشید دستی کا جعلی ڈگریوں کا نیا ریکارڈ، ڈی جی خان تا کراچی 7؍ ڈگریاں حاصل کیں

17 جولائی ، 2025

اسلام آباد (عمر چیمہ) جمشید دستی ڈیرہ غازی خان سے ملتان، بہاولپور اور پھر کراچی تک سات ڈگریاں حاصل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم کیا، اور یہ تمام ڈگریاں جعلی یا غیر مستند ثابت ہوئیں۔ مختلف فورمز پر بارہا نوٹس اور طلبی کے باوجود وہ اَڑے رہے۔ بالآخر الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے دو روز قبل انہیں نااہل قرار دے کر یہ باب بند کر دیا۔ شکایت کنندہ کے وکیل بیرسٹر ظفراللہ خان کی جانب سے الیکشن کمیشن کو فراہم کردہ ریکارڈ کے مطابق، جمشید دستی کی پہلی ڈگری (میٹرک سرٹیفکیٹ) 2002ء میں منسوخ کی گئی۔ تین سال بعد، انٹرمیڈیٹ کا سرٹیفکیٹ بھی ڈیرہ غازی خان کے تعلیمی بورڈ نے جعلی قرار دیا۔ 2008ء میں، جمشید دستی نے شہادت العالیہ (گریجویشن کے مساوی مذہبی ڈگری) حاصل کی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرائی گئی یہ اُس وقت کی لازمی شرط تھی کہ امیدوار گریجویٹ ہو۔ انہوں نے اسی ڈگری پر الیکشن لڑا، لیکن یہ ڈگری بھی چیلنج ہوئی۔ جب کیس سپریم کورٹ پہنچا تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں بینچ نے ان سے مذہبی معلومات کے سوالات کیے، لیکن وہ ایک کا بھی جواب نہ دے سکے۔ بینچ نے انہیں مستعفی ہونے یا نااہلی کا سامنا کرنے کا مشورہ دیا۔ جمشید دستی نے مستعفی ہونا بہتر سمجھا۔ اس کے باوجود، انہوں نے ڈگریوں کی دوڑ نہ چھوڑی۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایف اے اور بی اے کے اسناد حاصل کیں، اور بی اے ڈگری کی بنیاد پر ایل ایل بی پروگرام میں داخلہ بھی لیا۔ لیکن پہلے سال میں ہی ناکام ہو گئے۔ جب انہوں نے 2024ء کے انتخابات میں حصہ لیا، تو یہ ڈگریاں دوبارہ جانچ کے دائرے میں آگئیں۔ الیکشن جیتنے کے باوجود تحقیقات سے پتہ چلا کہ اسلامیہ یونیورسٹی سے حاصل کردہ ایف اے اور بی اے دونوں ڈگریاں جعلی ہیں۔ معاملہ زیر سماعت رکھتے ہوئے قومی اسمبلی اسپیکر نے ای سی پی کو ریفرنس بھیج دیا۔ ای سی پی کے طلب کرنے پر دستی نے اصرار کیا کہ ان کے کاغذات میں جمع شدہ ایف اے ڈگری اصلی ہے، اور ثبوت کے طور پر ایک اور ڈگری پیش کی جو بظاہر کراچی بورڈ کی طرف سے جاری کی گئی تھی۔ تاہم، جب ای سی پی نے ان دستاویزات کی تصدیق کیلئے بورڈ کو خط ارسال کیا تو ایک اور تضاد سامنے آیا کہ جمشید دستی کا قانونی نام جمشید احمد ولد سلطان محمود ہے، جبکہ کراچی بورڈ میں جمشید احمد ولد سلطان محمود درج تھا، سال پیدائش (1978ء) تو وہی تھا لیکن تاریخ اور مہینہ مختلف۔ مزید یہ کہ ای سی پی کو یہ شواہد بھی ملے کہ انہوں نے اپنے اثاثے چھپائے۔ یہ نیا الزام ان کی نااہلی کا آخری سبب بن گیا۔