ماہرین فلکیات پہلی بار نظام شمسی کی تشکیل کا مشاہدہ کرنے میں کامیاب

17 جولائی ، 2025

واشنگٹن(اے ایف پی)ماہرین فلکیات نے کہا ہے کہ انہوں نے پہلی بار کسی دور دراز ستارے کے گرد سیاروں کی تشکیل کا مشاہدہ کیا ہے، جس سے ہمارے اپنے نظامِ شمسی کی پیدائش کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق یہ نیا سیاروی نظام ایک نو عمر ستارے HOPS-315 کے گرد بن رہا ہے ، جو ہمارے سورج سے مشابہ ہے، اور زمین سے 1300 نوری سال دور اورائین نیبولا میں واقع ہے۔نو عمر ستارے گیس اور گرد و غبار کے بھاری دائروں میں گھرے ہوتے ہیں جنہیں پروٹوپلانیٹری ڈِسک کہا جاتا ہے، اور یہی وہ جگہ ہے جہاں سیارے بنتے ہیں، ان گھومتی ہوئی ڈِسکوں کے اندر، سلیکون مونو آکسائیڈ پر مشتمل قلمی معدنیات جمع ہونے لگتی ہیں۔یہ عمل بڑھتے بڑھتے کلو میٹر سائز کے ’ پلانیٹسملز’ میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو ایک دن مکمل سیارے بن جاتے ہیں۔ہمارے نظام شمسی میں، وہ قلمی معدنیات جو زمین اور مشتری جیسے سیاروں کی ابتدا بنی تھیں۔