کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیوکے پروگرام’’ رپورٹ کارڈ ‘‘میں میزبان علینہ فاروق نے اپنے پینل کے سامنے سوال رکھا کہ کیا سینیٹ میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق پی ٹی آئی کا درست فیصلہ ہے؟ جواب میں تجزیہ کارمظہر عباس، محمل سرفراز، فخر درانی اور ارشاد بھٹی نے کہا کہ تحریک انصاف کی سیٹیں مخالفین میں بانٹنا ایک بڑا سیاسی ظلم قرار دیا جا رہا ہے،ایک طرف سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو رہی ہے اور دوسری طرف پارٹی سڑکوں پر تحریک چلانے کی تیاری کر رہی ہے۔تحریک انصاف کو بخوبی اندازہ ہے کہ اگر معاملات میں لچک نہ دکھائی گئی تو ان کو نقصان ہی ہوگا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس صورت میں منڈی نہیں لگے گی نوٹ نہیں چلیں گے۔تاہم جب بات ذاتی مفادات کی آتی ہے تو بدقسمتی سے تمام سیاسی جماعتیں ایک ہی صف میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ اگر سیاسی رہنما اپنے فائدے کے لیے ایک ساتھ بیٹھ سکتے ہیں تو انہیں قومی مفاد کے معاملات پر بھی اتفاق رائے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ اصل مسئلہ سیاسی ایڈجسٹمنٹ کا ہے۔ اگر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ممکن ہے تو وسیع تر سیاسی ایڈجسٹمنٹ کیوں نہیں ہو سکتی؟ سینیٹ کی پانچ نشستیں اپوزیشن کو دی جا رہی ہیں سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ان کی سیٹیں ہیں؟ زیادہ سے زیادہ اپوزیشن کو ایک یا دو نشستیں ملنی چاہئیں تھیں لیکن پانچ نشستیں دینا ناانصافی کے مترادف ہے۔ پی ٹی آئی کی اندرونی صفوں میں بھی کنفیوژن نمایاں ہے۔ ایسے میں یہ خدشہ موجود ہے کہ پارٹی کا ووٹر اور سپورٹر ان فیصلوں کو دل سے قبول نہیں کرے گا۔تجزیہ کار فخر درانی نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی اراکین جو آزاد کے طور پر ہوں گے ان پر کوئی قدغن نہیں ہوگی پی ٹی آئی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ ان کے اراکین ادھر اُدھر ہوسکتے ہیں اس لیے یہ جو مشورہ دیا گی ہے یہ پی ٹی آئی کی طرف سے نہیں دی گئی ہے بلکہ خیبرپختونخوا میں جو اپوزیشن اتحاد ہے ان کی طرف سے دی گئی ہے کہ چھ سیٹیں پی ٹی آئی کو دیں گے پانچ اپوزیشن اتحاد کو دی جائیں گی۔تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ جب معاملہ ذاتی فائدوں کا ہوتا ہے تو تمام پارٹیاں ایک پیج پر نظر آتی ہیں۔ سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ جو پانچ سینیٹ کی سیٹیں اپوزیشن کو مل رہی ہیں یہ ان کی ہیں؟ کیا انہیں ملنی چاہیں ؟زیادہ سے زیادہ ان کی ایک یا دو سیٹیں ہوتیں اب انہیں پانچ مل رہی ہیں جنہوں نے پانچ جیتی ہیں انہیں سات مال غنیمت میں مل گئی ہیں کیا یہ جمہوریت ہے۔ اگر اس فارمولے پر عمل ہوجاتا ہے تو اس سے اچھا فیصلہ اس لیے نہیں ہوگا کیوں کہ منڈی نہیں لگے گی نوٹ نہیں چلیں گے۔اس سے بڑا ظلم نہیں ہوسکتا کہ تحریک انصاف کی سیٹیں اپوزیشن کو بانٹی جارہی ہیں۔تجزیہ کار محمل سرفراز نے کہا کہ یہاں پر پیسہ چلتا ہے اور اب تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ بات انفرادی سطح سے بڑھ کر پارٹی بھی خرید لی جاتی ہے تو ہارس ٹریڈنگ کا راستہ روکنے کے لیے ہے تو یہ فیصلہ درست ہے اور تحریک انصاف جانتی ہے اگر اس طرح کی ایڈجسٹمنٹ نہیں کریں گے تو معاملات میں فرق آسکتا ہے۔اور اگر ان معاملات میں یہ سب ایک ساتھ بیٹھنے کو تیار ہیں تو باقی چیزوں کے لیے بیٹھنا چاہیے اور اتفاق رائے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ اگر تحریک انصاف یہاں پر مزاحمت کرتی تو مزید نقصان اٹھانا پڑتا سینیٹ کا الیکشن بہت ٹیکنیکل ہوتا ہے اس میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی جاتی ہیں۔ بنیادی بات سیاسی ایڈجسٹمنٹ کی ہے اگر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوسکتی ہے تو سیاسی ایڈجسٹمنٹ کیوں نہیں۔تحریک انصاف میں کنفیوژن نظر آرہی ہے۔
صادق آباد،بنگلہ منٹھا،رحیم یار خان غربت سے دلبرداشتہ ہوکر ماں چاربچوں سمیت نہرمیں کود گئی، بچے ڈوب گئے، ماں...
راولپنڈی پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے چیف آرگنائزر عزیز احمد اعوان نے کہا ہے کہ ملکی ترقی، استحکام اور...
بہاول پور بہاولپور ایئر پورٹ ایک بار پھر رونقوں سے آباد ہو گیا۔ نجی ایئر لائن کی پہلی ملکی پرواز کراچی سے...
اسلام آباد پنجاب میں خریدی جانے والی ہر نئی گاڑی کی اسی صوبہ میں ہی رجسٹریشن لازمی قرار دیدی گئی ، ڈائریکٹر...
اسلام آ باد پاکستان اور ازبکستان کے درمیان روڈ اور ریل رابطے بہتر بنانے کی تجویزپر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع...
پشاوروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بند کمروں میں فیصلے کرنے والے کے پی میں تجربے...
اسلام آباد وفاقی آئینی عدالت نے ملک بھر میں بچوں کے اغوا، جبری مشقت اور بھیک منگوانے سے متعلق مقدمہ کی...
اسلام آباد نائب وزیراعظم وزیر خارجہ سینٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے شہر شنگھائی میں عالمی مصنوعی ذہانت...