پائیدار ترقی کیلئے مضبوط ادارے /شفاف نظام ضروری ، یوسف رضا گیلانی

18 جولائی ، 2025

اسلام آباد،(نمائندہ خصوصی) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے مضبوط ادارے اور شفاف نظام ضروری ہیں تاکہ شفافیت اور احتسابی عمل کو یقینی بناتے ہوئے عوامی بھلائی کیلئے کام کیا جا سکے، ہمیں ایسے مستقبل کی طرف بڑھنا ہے جہاں نہ صرف انفراسٹرکچر معیاری ہو بلکہ اس کی حکمرانی بھی مؤثر اور شفاف ہو۔انھوں نے ان خیالات کا اظہار اسلام آباد میں انٹرنیشنل فیڈریشن آف کنسلٹنگ انجینئرز (FIDIC) ایشیا پیسیفک مڈ-ایئر کانفرنس 2025 کی اختتامی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئےکیا ۔چیئرمین سینیٹ نے پاکستان کے انجینئرنگ اور انفراسٹرکچر کے شعبے کو مضبوط بنانے، ادارہ جاتی دیانت داری، تکنیکی مہارت، اور جامع ترقی کے فروغ کے لیے اقدامات اور اصلاحات کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔انھو ں نے کہا کہ ایوان بالاء ایسی قانون سازی کی بھرپور حمایت کرے گا جو انجنیئرنگ کے شعبے میں پروکیورمنٹ کے نظام کو مؤثر بنائے، اخلاقی اصولوں اور بین الاقوامی معیار کے مطابق تنازعات کے حل کے نظام کو فروغ دے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا ایک اخلاقی اور اسٹریٹجک ذمہ داری ہے۔ ان کے خیالات، توانائی، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز سے مطابقت رکھنے کی صلاحیت ہی مستقبل کے انفراسٹرکچر کی سمت کا تعین کرے گی۔چیئرمین سینیٹ نے ایسوسی ایشن آف کنسلٹنگ انجینئرز پاکستان (ACEP) کو ایشیا پیسیفک خطے اور دنیا بھر سے ماہرین کو کو اکٹھا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ اور انفراسٹرکچر کسی بھی ملک کی ترقی کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ سڑکیں، پل، توانائی کے نظام اور آبی نیٹ ورک صرف سٹیل اور پتھر کی تعمیرات نہیں بلکہ یہ وہ ذریعے ہیں جو لوگوں کو جوڑتی ہیں، تجارت کو ممکن بناتی ہیں اور معاشروں کو بلند کرتی ہیں۔انہوں نے ادارےکے اس کردار کو سراہا جو عالمی سطح پر دیانت داری اور منصوبوں کی مؤثر تکمیل کے معیار طے کرنے میں ادا کر رہا ہے۔ پاکستان کے انفراسٹرکچر کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے عوامی وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ معیار اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اے سی ای پی کے صدر وسیم اصغر نے بھی شرکا کو کانفرنس کے دوران زیر بحث اہم موضوعات پر آگاہ کیا ۔ انھوں نے اس کانفرنس کو انتہائی مفید قرار دیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہم معاونت اور بہتر رابطہ کاری کے زریعے ایک دوسرے کے تجربات سے بہتر فائیدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ کانفرنس میں ملکی اور غیر ملکی وفود نے بھی شرکت کی۔