آبی گزر گاہوں کی بحالی نعرہ بن چکا ؛تحریری احکامات کھو ہ کھاتے

18 جولائی ، 2025

راولپنڈی(راحت منیر/اپنے رپورٹر سے) آبی گزر گاہوں کی بحالی نعرہ بن چکا ؛تحریری احکامات کھوہ کھاتے ،غیر معمولی بارشوں باعث طغیانی سے راولپنڈی کو شدید نقصان ،انتظامی اور سیاسی بے حسی ،مستقل حل نہیں نکالا جاسکا۔دریائے سواں،نالہ لئی،نالہ کورنگ اور دریائے سل سمیت دیگر آبی گزرگاہوں کےرائیٹ آف وے کی بحالی، کناروں پر غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات پر پابندی کے نعرے وقفہ وقفہ سے لگتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجودآبی گزرگاہیں سکڑکر نالے بن چکے ہیں۔غیر معمولی بارشوں کے باعث طغیانی سے راولپنڈی کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔انتظامی اور سیاسی بے حسی کے باعث کوئی مستقل حل نہیں نکالا جاسکا۔آبی گزرگاہوں کو معدوم ہونے کےدرپیش خطرات سے بچانے کیلئے چار اپریل2013کو اس وقت کے ڈی سی او ثاقب ظفر نے اپنے تبادلے سے قبل راولپنڈی ضلع کے105بڑے چھوٹے نالے اور دریائوں کا سروے کرکے ان کو محفوظ بنانے کا حکم جاری کیاتھا۔جو ان کے تبادلے کے ساتھ ہی لاپتہ ہوگیا۔دو فروری 2018کو اس وقت کےکمشنر راولپنڈی ڈویژن ندیم اسلم چوہدری نےپنجاب فلڈ پلین ریگولیشنز ایکٹ2016کے تحت دریائے سواں،نالہ لئی،نالہ کورنگ اور دریائے سل سمیت دیگر آبی گزرگاہوں کےرائٹ آف وے کی بحالی، کناروںپر غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات پر پابندی لگائی۔لیکن ان کے تبادلے کے بعد یہ حکم بھی ردی ہوگیا۔بعدمیں آنے والے تمام انتظامی افسران نے ایک نعرہ کے طورپر تجاوزات و قبضوں کے خلاف احکامات جاری کئے لیکن عملا کچھ نہیں کیا۔