ایران،عراق اورشام جانیوالے40ہزارزائرین کہاں غائب،کسی ادارے کے پاس معلومات نہیں

18 جولائی ، 2025

کراچی ( ثاقب صغیر )ایران ،عراق اور شام جانے والے 40 ہزار پاکستانی زائرین کہاں غائب ہوئے اس حوالے سے کسی بھی ادارے میں پاس ان افراد سے متعلق مصدقہ معلومات موجود نہیں ہیں تاہم امیگریشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر زائرین عراق جا کر بھیک مانگنے میں ملوث ہیں،کچھ وہاں غیر قانونی طور پر رہ کر ملازمت کر رہے ہیں جبکہ کچھ ترکی کے راستے یورپ نکل گئے ہیں۔اس حوالے سے جولائی 2024 میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے امیگریشن کوئٹہ کی جانب سے تافتان بارڈر پر تعینات ایف آئی اے کے آفیسر انچارج کو ایک خط بھی لکھا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ڈائیریکٹر امیگریشن ایف آئی اے اسلام آباد کی جانب سے لکھے گئے خط میں بتایا گیا ہے کہ 66 خواتین اور ان کے بچوں کو حراست میں لیا گیا ہے جو بغداد میں بھیک مانگنے میں ملوث ہیں۔مذکورہ خواتین اور بچوں کا تعلق شکارپور، راجن پور،رحیم یار خان ،صادق آباد ،ڈیرہ غازی خان اور کشمور سے تھا۔خط میں بتایا گیا تھا کہ فیملی کے مرد خواتین اور بچوں کو چھوڑ کر واپس آ جاتے ہیں جو وہاں بھیک مانگتے ہیں۔خط میں مزید بتایا گیا تھا کہ غیر قانونی تارکین وطن کی اکثریت جن کا تعلق منڈی بہائو الدین ، گجرانوالہ، گجرات ، حافظ آباد، وزیر آباد،شیخوپورہ اور پارا چنار سے ہے نے ایجنٹوں کو بڑی رقوم دی ہیں جو انھیں زیارت ویزہ کے ذریعے ایران بھیجتے ہیں اور عراق میں ان کے غیر قانونی داخلے کے لیے سہولت کاری کرتے ہیں۔خط میں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی سفارت خانے کے کمیونٹی ویلفئر اتاشی نے عراقی حکام سے ہونے والی میٹنگ کے بعد بتایا ہے کہ عراقی حکام نے بڑی تعداد میں غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانی شہریوں کی عراق میں موجودگی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ حکومت پاکستان زائرین اور ان کے ٹور آپریٹرز سے گارنٹی لے کہ وہ زیارت کے بعد پاکستان واپس جائیں گے اور خلاف ورزی کرنے کی صورت میں انکے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔اگر اس ٹرینڈ پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستانی شہریوں کے بلیک لسٹ ہونے کے بھی امکانات ہیں۔خط کے مطابق بغداد میں تعینات پاکستانی سفیر نے بھی عراق میں موجود غیر قانونی طور پر مقیم پاکستانیوں کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔ پاکستانی سفیر کے مطابق عراق میں 40 سے 50 ہزار کے قریب پاکستانی بغداد، نجف ، کربلا ، بصرہ اور کردستان ریجن کے کچھ حصوں میں موجود ہیں اور ان میں سے بہت کم قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو کہ کنسٹرکشن کمپنیوں ،یو این ایجنسیوں، ہیلتھ کئیر ،آئل ،ٹیلی کمیونیکیشن اور ائیر لائنز میں ملازمت کرتے ہیں جبکہ باقی افراد غیر قانونی طور پر مقیم ہیں۔