غزہ کے واحد چرچ، خیموں ، امدادی مراکز پر بمباری ، حملے،93فلسطینی شہید

18 جولائی ، 2025

غزہ،کراچی (اے ایف پی، نیوز ڈیسک) اسرائیلی طیاروں نے غزہ کے واحد چرچ پر بھی بمباری کردی جس کے نتیجے میں بزرگ خاتون سمیت 3افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے، اسرائیلی فورسز نے خیموں اور امدادی مراکز پربھی بمباری اور حملے کئے ، 24گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں 93فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے، وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا ہے کہ غزہ کے کیتھولک چرچ پر بمباری غلطی سے ہوئی،برطانیہ کے 84ارکان پارلیمنٹ نے ایک خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرا ئیل پر پابندیاں لگائیں، برطانیہ جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے ، اسے اسلحے کی فروخت سمیت اس کیساتھ ہر طرح کی تجارت بند کی جائے۔ یروشلم کے لاطینی پتریاکشیٹ نے چرچ پر بمباری میں تین افراد کے جاں بحق ہونےکی تصدیق کرتے ہوئے شہریوں کے جانی نقصان پر اظہار افسوس کیا ہے ، پوپ لیو چہاردہم نے انسانی جانوں کے ضیاع پر "گہرے دکھ" کا اظہار کیا،اپنے بیان میں پوپ لیو نے فوری طور پر غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ بھی دہرایا ہے، ایک عینی شاہد جن کی 70سالہ والدہ بھی حملے میں جاں بحق ہوگئیں نے بتایا کہ چرچ پر ٹینک سے داغا گیا گولہ آکر لگا،اس چرچ سے پوپ فرانسس اپنی زندگی کے دوران ہمیشہ رابطے میں رہتے تھےجہاں 600بے گھر افرادنے پناہ لے رکھی ہے جن میں بیشتر بچے اور کمزور شہری شامل ہیں، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی اور فرانسیسی وزیر خارجہ نے چرچ پر حملے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے ۔ قبل ازیں جمعرات کو وائٹ ہاؤس نے بتایا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا کہ غزہ کے واحد کیتھولک چرچ پر حملہ "ایک غلطی" تھا۔