بیرونی قرضوں کی ادائیگی، پاکستان 23 ارب ڈالرز سے زائد واپس کریگا

18 جولائی ، 2025

اسلام آباد (مہتاب حیدر) معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کو مالی سال 2025-26 کے دوران بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے 23 ارب ڈالر سے زائد کی رقم واپس کرنا ہوگی۔ کل 23 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی میں سے 12 ارب ڈالر کی رقم دو مختلف زمروں میں ڈپازٹس کی صورت میں شامل ہے، جن کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ دوست ممالک کی فراخدلانہ مدد سے ان کی مدت میں توسیع (رول اوور) حاصل کی جائے گی۔ اسلام آباد کو رواں مالی سال کے دوران تقریباً 11 ارب ڈالر کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنا ہوگی، جو کہ کثیرالجہتی اور دو طرفہ قرض دہندگان، بین الاقوامی بانڈ ہولڈرز، اور کمرشل قرض دہندگان کو واپس کرنا ہے۔ تاہم، اگر دو طرفہ قرض دہندگان کل غیر ملکی ڈپازٹس میں سے مدت میں توسیع (رول اوور) دینے سے انکار کر دیں، تو ان کی ادائیگی کے حوالے سے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ضرورت میں مزید اضافہ ہوگا، اور ستمبر 2025 میں یوروبانڈ کی میچورٹی کی مد میںپانچ 500 ملین ڈالر کی ادائیگی کرنا پڑے گی۔ قرض اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا تناسب، جس میں گزشتہ چند سالوں کے دوران مہنگائی کے شدید دباؤ کے باعث بہتری دیکھنے میں آئی — کیونکہ اس سے معیشت کا مجموعی اسمی حجم (نامیاتی جی ڈی پی) بڑھ گیا — اب مہنگائی میں کمی اور سست ہوتی ہوئی نامیاتی معاشی نمو کے نتیجے میں آئندہ مہینوں میں بگڑنے کا خدشہ ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے جمعرات کے روز ’’دی نیوز‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی عوامی شعبے کے بیرونی قرضوں کی ضروریات رواں مالی سال 2025-26 کے دوران تقریباً 15 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔