کراچی چیمبر کے عہدیداروں نے فون کرکے معذرت کی ،ہارون اختر

20 جولائی ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام’’ نیا پاکستان ‘‘میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہےکہ کراچی چیمبر کے عہدیداروں نے فون کرکے مجھ سے معذرت کی ہے معافی مانگی ہے، پی ٹی آئی کے ناراض رہنما خرم ذیشان نے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جن ناموں کا اعلان کیا گیا ہے وہ واقعی خان صاحب کی طرف سے ہے کیونکہ اس کا ابھی تک آفیشلی نوٹیفکیشن بھی نہیں آیا ہے ،میزبان شہزاد اقبال نے اپنے تجزیئے میں کہا کہ سینیٹ الیکشن کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر پاکستان تحریک انصاف میں دو دھڑے آمنے سامنے آچکے ہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا کہ ہماری ایک میٹنگ وزیر خزانہ کی سربراہی میں تمام چیمبر ز سے ہوئی تھی اور ان کی ہی خواہش پر ہم نے یہ کمیٹی بنائی تھی اور ان کی جانب سے جو بھی ڈیمانڈز تھے ان کو توجہ سے سنا اور اس کے لئے ہم نے آؤٹ سائیڈ وکلا اور ٹیکس کنسلٹنٹ کو بھی بلایا ہوا تھا ہم نے ایف پی سی سی آئی او رچیمبرز کے موقف کو جانا اور پھر اس کو آؤٹ سائیڈ وکلا اور ٹیکس کنسلٹنٹ سے مشورہ کرتے اور پھر ایف بی آر سے مشورہ کرتے تھے اور پھر سب مل مشترکہ مشاورت کے بعد ایک پرپوزل تیار کرتے تھے کہ یہ پرپوزل ہم پیر کے روز وزیراعظم کو پیش کریں گے اس موقع پر کسی نے بھی تحریری طور پر دینے کی نہ ہی ڈیمانڈ کی اور نہ ہی کوئی اس حوالے سے بات ہوئی یہ طے ہوا تھا کہ وزیراعظم سے بات کرکے اس کو پوری کوشش کرکے منظور کراکے واپس آئیں گے اور پھر میٹنگ کریں گے ۔ ہماری جو میٹنگ ہوئی تھی اس میں لاہور چیمبر بھی موجود تھا او رکراچی چیمبر کے جاوید بلوانی اور زبیر موتی والا بھی تھے جو اس میٹنگ میں کافی ایکٹیو تھے مجھے حیرانی تھی کہ انہوں نے اچانک ہڑتال کیوں کال کی تاہم بعد میں ان کا فون آیا اور معذرت کی اور کہا کہ یہ ہم نے صرف اپنی کمیونٹی کو مطمئن کرنے کے لئے علامتی ہڑتال کی ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ جو پرپوزل دی گئی ہے وہ ابھی منظور ی کے مراحل میں ہے اس لئے ہم کسی بھی قسم کا کوئی امن و امان کا مسئلہ نہیں کھڑا کریں گے انہوں نے تصدیق کی کہ کراچی چیمبر کے عہدیداروں نے فون کرکے مجھ سے معذرت کی ہے معافی مانگی ہے انہوں نے اعتراض والی شق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تو یہ تھا کہ کسی پر اگر دوران انکوائری شک ہوتا ہے تو اسسٹنٹ کمشنر کو اختیار ہے کہ وہ گرفتار کرے لیکن اب یکم جولائی سے یہ ہوگیا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر ہو یا کمشنر یا چیف کمشنر یہ کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں اگر انکوائری کے دوران کوئی بے ضابطگی نظر آتی ہے تو چیئرمین ایف بی آر کو مطلع کیا جائے گا جو تین رکنی ایف بی آر ممبر کی کمیٹی بنائے گا جو اس کی تحقیقات کرکے فیصلہ کرے گی کہ گرفتار کیا جائے یا نہیں تاہم اس پر بھی ہم نے یہ کیا ہے کہ اگر لگتا ہے کہ یہ زیادتی ہوئی ہے تو اس پر بھی ایک کمیٹی بنائی جائے گی جس میں ایف پی سی سی، ایف بی آر چیمبر شکایت کنندہ اور انڈسٹری کا ایک ایک نمائندہ ہوگا جن پر مبنی ایک کمیٹی بنادی جائے گی جو پندرہ دن میں اس پر فیصلہ کرے گی ۔ اس کے علاوہ ایک تین ہیئرنگ میں پیش نہ ہونے پر جج کا آرڈر لے کر پکڑے جانے کا جو مسئلہ تھا اس پر بھی کافی بحث ہوئی اور ہم نے ایف بی آر سے کہا کہ جو سب رول 9 ہے اس کو نکال دیں تاہم اگر وہ نہ نکالا گیا تو اس کے اندر چیک اینڈ بیلنس لگادیں گے ۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ جتنی بھی لاء ہیں وہ جج کی منظوری کے بعد ہی کی جاتی ہیں ایف بی آر کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ ایکٹ میں ترمیم کئے بغیر ہی ایڈمنسٹریٹولی ہی ایسے رولز اور کلاز ڈالے جائیں کہ اس کا غلط استعمال نہ ہو اور اس پر بھی وہ مطمئن تھے ۔ہم نے تو پہلے جو دو لاکھ کی ٹرانزیکشن کی لمٹ تھی اس پر پرپوزل دیا ہے کہ پہلے سال وہ 25لاکھ اور پھر اگلے سال 15لاکھ ہوجائے گی اور پھر آخری سال میں 5 لاکھ ہوجائے گی ۔پی ٹی آئی کے ناراض رہنما خرم ذیشان نے اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ جن ناموں کا اعلان کیا گیا ہے وہ واقعی خان صاحب کی طرف سے ہے کیونکہ اس کا ابھی تک آفیشلی نوٹیفکیشن بھی نہیں آیا ہے دوسری بات یہ ہے کہ ہم پارٹی میں اگر ہیں تو اس کی وجہ نظریہ اور سوچ ہے اور جب ہمیں اس سوچ اور نظریہ کی نفی نظر آئے تو ایسا ممکن نہیں کہ اس پر ہم اپنا سر جھکادیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا یہ ناموں کا مسئلہ ہے ہی نہیں اصل بات یہ ہے کہ ہم ملی بھگت اور گٹھ جوڑ ان لوگوں سے جن سے ہمارا لیڈر بات نہیں کرتا اور آپ ان سے جاکر باتیں کریں اور سیٹوں پر تبادلہ کریں اوروہ بھی پارٹی کے نقصان میں یعنی آپ اپنے اصل حق سے کم پر راضی ہورہے ہیں اس سے بڑھ کر اخلاقیات بھی کوئی چیز ہیں مجھے بتایا جائے کہ کیونکر ان لوگوں سے بات کی جارہی ہے جب میرا لیڈر ان سے بات نہیں کرتا ہمارے لئے یہ ہر گز ہرگز قبول نہیں ۔سینیٹ میرے لئے معمولی چیز ہے بھلے مجھے ایک بھی ووٹ نہیں ملے لیکن میں دستبردار نہیں ہوں گا کیونکہ ہم الیکشن چاہتے ہیں یہ بلامقابلہ جو بند کمروں کی بندر بانٹ ہے اس کو ہم مسترد کرتے ہیں کیونکہ ہم باقی پارٹیوں کی طرح روایتی سیاست نہیں کرسکتے ۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ ملی بھگت نہ ہوتی تو ہم 6 سے زائد سینیٹ کی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے تھے ۔ ہم نے اب یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ہم نے کیا کروڑ پتی لوگوں کے کلب بنا کر ہی رکھنے ہیں یا پھر اس میں عام لوگوں کو بھی نمائندگی دینی ہے کیونکہ ان کے نام پر ہی بیٹھ کر تو یہاں پر سیاست کی جارہی ہے۔اس سوال کہ آپ نہیں سمجھتے کہ یہ فیصلے خان صاحب کے ہیں تو پھر یہ فیصلے کون کررہا ہے کہ جواب میں ناراض پی ٹی آئی رہنما خرم ذیشان نے کہا سادہ سی بات ہے جس طرح سے اسٹیبلشمنٹ چیزوں کو کنٹرول کررہی ہے کچھ دن پہلے دیکھ لیں بیرسٹر سیف جن کا نام لسٹ میں تھا ہی نہیں کی ڈیڑھ گھنٹہ تک ان سے ملاقات ہوتی ہے انہوں نے ڈیڑھ گھنٹہ کیا بتایا کیا باتیں ہوئیں یقینی طور پر اس میں اسٹیبلشمنٹ ملوث ہے وہ اپنی ٹیم کو لانا چاہتے ہیں پھرآگے ان کے بہت سارے ارادے ہیں ۔یہ بہت سادہ بات ہے جو میری سمجھ میں آرہی ہے مجھے ان کی سادگی پر حیرانی ہے جن کو یہ سیدھی سی بات سمجھ نہیں آرہی ہے ویسے اتنی سادگی تو ہونی نہیں چاہئے ۔ ہمیں تو ان کو ایکسپوز کرنا چاہئے جو لوگ پیسے لے رہے ہیں سوداگری کررہے ہیں ۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ وزیراعلیٰ کو اگر کچھ لوگوں کے منحرف ہونے کا ڈر ہے تو ان کو منحرف ہونے دیں ایسے لوگوں کو ایکسپوز ہونا چاہئے ہمیں تو ایسے لوگوں کو جو پیسے پر بک رہے ہوں اپنی صفوں میں رکھنا ہی نہیں چاہئے پھر یہ کیوں چاہتے ہیں کہ ایسے لوگ پی ٹی آئی میں موجود رہیں ۔ناموں کے غلط ہونے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم اتنا تو خان صاحب کو جانتے ہیں کہ وہ اس طرح کی بات کریں گے ۔ انہوں نے شہزاد اقبال کو مخاطب کرکے کہا کہ میں آپ کے پروگرام کے توسط سے بھی کہوں گا کہ بھلے مجھے ایک ووٹ بھی کوئی نہ دے لیکن دستبردار نہیں ہوں گابلامقابلہ ہمیں قبول نہیں بغیر لڑے میدان نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ میزبان شہزاد اقبال نے اپنے تجزیے میں کہا کہ 21جولائی کو کے پی کے میں سینیٹ الیکشن ہونے جارہے ہیں لیکن یہ غیریقینی کی صورتحال برقرارہے کہ کیاپی ٹی آئی سینیٹ الیکشن لڑے گی کیونکہ سینیٹ الیکشن کے لئے ٹکٹوں کی تقسیم کو لے کر پاکستان تحریک انصاف میں دو دھڑے آمنے سامنے آچکے ہیں رات گئے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی نے بانی پی ٹی آئی کی جانب سے فائنل کئے گئے سینیٹ امیدواروں کے ناموں کی توثیق کردی ہے اور کثرت رائے سے یہ فیصلہ بھی ہوا کہ سینیٹ کا الیکشن بلامقابلہ ہوگاتاہم اس کے برعکس پارٹی کے ناراض امیدواروں نے سینیٹ الیکشن سے دستبردار نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے اور اپنے وڈیو بیان میں ان کا کہنا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ سے لائے گئے امیدوارو ں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہیں گے اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جیو نیوز پشاور کے بیورو چیف شکیل فرمان کی خبر کے مطابق ناراض امیدواروں کے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی نے اپوزیشن سے سینیٹ الیکشن میں مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور مقابلے کی صورت میں اپوزیشن او رپی ٹی آئی حکومت کے درمیان 5اور 6 نشستوں کا معاہدہ ختم ہوجائے گا۔اس ساری صورتحال پرامریکی صدر کے نئے بیان نے بھارت کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ہے اس حوالے سے اپنے تجزیے میں شہزاد اقبال کا کہنا تھا کہ پانچ بھارتی طیارے گرنے کی تصدیق تو اب امریکی صدر ٹرمپ نے بھی اپنے خطاب میں کردی ہے جبکہ اس سے پہلے کئی بین الاقوامی ماہرین انٹرنیشنل میڈیا اس کی تصدیق کرچکا ہے اور اب امریکی صدر کی اس تصدیق کے بعد بھارت کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت کانگریس نے پھر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے سخت سوالات کا سلسلہ شروع کردیا ہے کانگریس رہنما راہول گاندھی کانگریس ترجمان اور کانگریس پارٹی کے دیگر اراکین ایکس پر مودی سے سوالات کررہے ہیں کیونکہ ایک طرف جہاں بھارت کو سفارتی سیاسی انفارمیشن محاذ پر شکست ہوئی ہے وہیں اب ان کو جنگی محاذ پر بھی شکست اٹھانا پڑی ہے ۔واضح رہے کہ اے کے بھارتی (ڈی جی ایئر اپریشنز ) بھی بھارتی طیاروں کے گرائے جانے کا اعتراف کرچکے ہیں جبکہ چیف آف ڈیفنس انیل چوہان بھی ایک انٹرویو میں کہہ چکے ہیں کہ طیارے گرنا اہم نہیں اہم یہ ہے کہ گرے کیوں ۔ اس کے علاوہ انڈونیشیا میں بھارت کے دفاعی اتاشی بھی کہہ چکے ہیں کہ میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہم نے چند طیارے ضرور کھوئے ہیں اور وہ بھی انڈیا کی سیاسی قیادت کی وجہ سے کھوئے ہیں ۔ ایف بی آر کو وسیع اختیارات دینے اور فنانس ایکٹ میں نئے ٹیکس قوانین کے خلاف ہفتہ کو لاہور اور کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے ہڑتال کی گئی کئی متعدد مارکیٹیں بند رکھی گئیں واضح رہے کہ گزشتہ روز تاجروں کی سب سے بڑی تنظیم ایف پی سی سی آئی نے حکومت کو اپنے مطالبات پر عملدرآمد کے لئے ایک ماہ کی مہلت دی تھی کیونکہ حکومت نے ان کو متنازع شقوں کو واپس لینے کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم کراچی اور لاہور چیمبر نے موقف اپنایا کہ انہیں حکومت کی زبانی یقین دہانیوں پر اعتماد نہیں تحریری یقین دہانی کرائی جائے بصورت دیگر ہفتہ کو ہڑتال ہوگی ۔