ہندوستان نے آپریشن سندور میں پاکستان کے ساتھ زیادتی کی،ایمل ولی

20 جولائی ، 2025

کراچی (ٹی وی رپورٹ) جیو کے پروگرام ’’رپورٹ کارڈ‘‘میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی صدر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی ) سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ بطور پاکستان میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان نے آپریشن سندور میں پاکستان کے ساتھ زیادتی کی ہے اور آج بھی جنگ کا خطرہ موجود ہے ، ژوب سے لے کر چمن تک جو 11 پختون اضلاع ہیں ان کو بھی پختونخوا میں شامل کیا جائے،مخصوص نشستوں کو انہوں نے مخصوص ڈرامہ قرار دیا ،انہوں نے پی ٹی آئی کو گندگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو قریب گیا وہ گندا ہوا ہے ۔ان کے قریب جانے پر میں نہ ریاست کو اور نہ ہی سسٹم کو ٹھیک ہوتا دیکھ رہا ہوں، پارٹی سے لوگوں کا آنا جانا نارمل سی بات ہے یہ پاکستان ہے اس خطے میں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے لوگ آتے بھی ہیں اور جاتے بھی ہیں میں نہیں سمجھتا کہ یہ کوئی بڑا مسئلہ ہے ۔ بلور خاندان کا پارٹی کے ساتھ ناطہ نہیں ٹوٹا ہے بلور خاندان کی پہچان حاجی غلام احمد بلور ہیں اور غلام احمد بلور وفا کی ایک مثال ہیں وہ آج بھی چٹان کی طرح اے این پی کے ساتھ کھڑے ہیں میں ان کو سلام پیش کرتا ہوں ثمربلور کی میری نظر میں بہت عزت ہے ہماری نظر میں بلور خاندان کی بے انتہا عزت ہے ثمر بلور کی خوشی تھی اس پر کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے میرا خیال ہے وہ اپنے والد کی سیاست پر رواں دواں ہیں مجھے خوشی ہے کہ کوئی اگر پارٹی سے گیا ہے تو اس وجہ نہیں گیا کہ ہم نظریے سے ہٹ کر کسی اور راستے پر گامزن ہیں بلکہ وہ گیا اس وجہ سے کہ میرا نظریہ سخت ہے اور میرا نظریہ وہی ہے جو میرے باپ دادا کا تھا ۔ ابھی مولانا خان صاحب کی شہادت پر جو ہم نے تعزیتی اجلاس بلایا تھا تو اس میں غلام احمد بلور شریک تھے میری نظر میں وہ اے این پی کے ایکٹیو ممبر ہیں ۔ وہ جیو نیوز کے پروگرام ’’جرگہ ‘‘میں میزبان سلیم صافی سے گفتگو کررہے تھے ۔ ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ اس وقت جو کے پی کے میں حالات ہیں اس میں آزادانہ طور پر ہماری پارٹی کام نہیں کرسکتی ہے آپ خود دیکھ لیں کہ ہماری پارٹی کے ایک عالم دین کو جو امن کے لئے ریلی نکال رہا تھا شہید کردیا گیا میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت کے پی کے میں عوامی نیشنل پارٹی کو ایک بہت مشکل فیلڈ میں سیاست کرنا پڑرہی ہے کیونکہ اس وقت اس خطے میں امن اور دہشت کی لڑائی ہے ہمارا راستہ امن ہے اور دہشت گردی ہمیشہ ہی ہمارے خلاف رہی ہے اور اس کا ٹارگٹ بھی ہمیشہ ہم ہی رہے ہیں کل ہم حکومت میں تھے تب بھی ٹارگٹ تھے اور آج ہم حکومت میں نہیں ہیں تب بھی ٹارگٹ ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم اپنی اس سرزمین کو مالکانہ حیثیت سے منوانے کے لئے جدوجہد کررہے ہیں اے این پی تو کے پی کے میں وہ قوت ہے جو ہمیشہ پختون قوم اور مخالف کے بیچ میں رہی ہے ہم حکومت میں نہ ہوں تب بھی اگر مخالف میں پختون کو کمز ور کرنا ہے تو پہلے یہ جو قوم پرست جماعت ہے اس کو کمزور کرکے ہی وہ کرسکیں گے ورنہ مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ اسی لئے ٹارگٹ ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسی دیوار ہے جو اگر ٹوٹ گئی تو اس کا نقصان پختون قوم کو ہوگا ۔ ہم تو وہ لوگ ہیں جو اپنی سرزمین اور اپنے قوم کے مسائل کو اپنے مسائل سمجھتے ہیں تبھی اس پر بات بھی کرتے ہیں باجوڑ ہو یا مہمند ہو یا پھر وزیرستان مردان سوات یا پھر پشاور اس کے مسئلے میرے مسئلے ہیں ہم تو دہشت گردی کے خلاف ہیں بھلے وہ جس حال میں جس حلیے میں بھی ہو ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ جو ہم ایک دم سے اٹھ کر پالیسی بنالیتے ہیں جس طرح ہم نے پالیسی بنالی کہ ہم نے ری سیٹل کرنا ہے اور ری کنسیلیشن کے نام سے جو ایک بہت بڑا گند اس ملک کے ساتھ ہوا ہے اور ابھی جو حالات ہیں اس کی وجہ ہی ری کنسیلیشن ہے ۔ری کنسلیشن تو ہوگیا لیکن ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ان لوگوں کو کس معاہدے پر لے کر آیا گیا ہے ہمیں تو بدقسمتی یہ بھی نہیں معلوم کہ ری کنسیلیشن کے ٹرمز کیا ہیں کیونکہ وہ تو آج بھی بندوق اٹھائے ہوئے ہیں میں تو اس ری کنسیلیشن کے معاملے پر ہر جگہ گیا اور مطالبہ بھی کیا کہ ایک جوڈیشل کمیشن بنالیا جائے تاکہ قوم کو وہ کاغذ کا ٹکڑا تو مل جائے جس پر اتنا بڑا ری کنسیلیشن ہوگیا ہے کہ 102 دہشت گردوں کو جیل سے رہا کردیا گیا اور 40 ہزار کو لاکر آباد کردیا گیا تو یہ کیا پالیسی تھی اور یہ سارا پراسیس جنرل فیض کے دور میں ہوا ۔ میں نے وزیراعظم کو بتایا کہ آپ صوبائی معاملے میں مداخلت کررہے ہیں جبکہ وفاق یہ نہیں کرسکتا ہے اگر آپ ادھر مداخلت کرسکتے ہیں تو پھر سندھ میں کچے کا بہت بڑا مسئلہ ہے وہاں آپ کیوں کوئی کمیٹی نہیں بنادیتے ۔میں نے وزیراعظم کو کہا کہ اگر آپ نے کے پی میں مداخلت ہی کرنی ہے جرگہ ہی بنانا ہے تو پھر ایسا جرگہ بنائیں جس میں پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز موجود ہوں تب شاہد کوئی حل نکلے اور ضروری نہیں کہ امیر مقام ہی سربراہ ہو اس کے علاوہ بھی کسی سیاستدان کو نہیں بلکہ کسی صاف ستھری حیثیت والے پختون کو جرگہ کا سربراہ مقرر کیا جائے ۔ فاٹا انضمام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ انضمام کی مخالفت سب کو ہی پتہ ہے کہ کون کررہا ہے میری نظر میں تو اس کی مخالفت وہ لوگ کررہے ہیں جن کے دھندے بند ہوگئے ہیں ۔انہوں نے ریاست سے مطالبہ کیا کہ ژوب سے لے کر چمن تک جو 11 پختون اضلاع ہیں ان کو بھی پختونخواہ میں شامل کیا جائے بھلے اس پر بلوچستان ناراض ہوبلوچ اپنا علاقہ او رپختون اپنا علاقہ لے لے ۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہر قوم یکجا ہوکر اسی ملک کے اندر اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرے ۔مخصوص نشستوں کو انہوں نے مخصوص ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ ایک سیٹ مجھے ٹاس میں ملی ہے اور ایک کیلکولیشن میں ملی ہے میں اس کو پھر کیوں چھوڑ دوں تاہم اگر یہ سیٹس جن کا حق ہے ان کو ملتی ہیں تو میں آج ہی یہ دونوں سیٹس چھوڑنے کو تیار ہوں ۔ کے پی کے میں سینیٹ الیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسی نے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے تاہم دیکھتے ہیں آگے کیا ماحول بنتا ہے بظاہر تو یہ بلامقابلہ نظر آرہا ہے کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز اور اب تو سب ہی بندہ نواز ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ اس بار تو بہت زیادہ پیسہ چلا ہے اور آج میں یہ بول رہا ہوں کہ یہ پورا گیم وزیراعلیٰ کے پی کے کی ہے امیر مقام کے بیٹے کو سینیٹر بنانے کی ذمہ داری علی امین گنڈا پور کی ہے ۔ 5 اگست کو پی ٹی آئی کے ساتھ مل کر احتجاج کے سوال کے جواب میں انہوں نے پی ٹی آئی کو گندگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو قریب گیا وہ گندا ہوا ہے ۔ان کے قریب جانے پر میں نہ ریاست کو اور نہ ہی سسٹم کو ٹھیک ہوتا دیکھ رہا ہوں ان کی تو ڈرامے بازیاں ہیں ویسے سیاست میں سب ہوسکتا ہے لیکن وقت تو ایسا ممکن نہیں کہ ہم ان کے قریب جائیں یا ان کے ساتھ جائیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے انہوں نے کہا میرا خیال ہے وہ اپوزیشن کا رول نبھا رہے ہیں لیکن وہ اس طرح سے ایکٹیو نہیں جس طرح 20 سال پہلے ہوا کرتے تھے تاہم ایک چیز غلط ہے جس پر مولانا کو سوچنا ہوگا اور انہوں فاٹا کی عوام کو یہ دکھ نہیں پہنچانا چاہئے جو انہوں نے فاٹا انضمام کے خلاف ایک بیان دے کر پہنچایا ہے ۔ انہوں نے کے پی کے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس دن ہمارا عالم دین شہید ہوا وزیراعلیٰ اڈیالہ جیل کے باہر اپنے خان کی رہائی کے لئے مہم چلارہے تھے کے پی کے حکومت کا پہلا کام بس خان کی رہائی اور دوسرا کام ٹھیک ٹھاک طریقے سے پیسہ بنانا ہے ۔ اس سوال کہ پاکستان کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرلینا چاہئے کے جواب میں کہا وہاں حکومت ہی ان کی ہے پھر تسلیم کیسا کرنا ہم نہیں بھول سکتے کہ اشرف غنی کو کس طرح سے نکالا گیا اور طالبان کو کس طرح سے لایا گیا سو فیصد امریکا ہی طالبان کو لایا ہے تبھی تو جہاز بھر بھر کر ڈالر آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ خدا نہ کرے جو بھارت او رپاکستان کی جنگ ہو یہ دو تین دن کی لڑائی تو ٹریلر تھا ورنہ جنگ تو روس اور یوکرین میں ہورہی ہے ۔فلسطین میں دیکھ لیں کیا ہورہا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے بیچ میں کچھ ایسے عناصر ہیں جن کو جنگ کا نام فائدہ دیتا ہے اور وہ عناصر ہیں بھی بہت مضبوط اور وہ چاہتے ہیں کہ دونوں جانب سے جنگ کا ایک ماحول بنا رہے ۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جنگ مسئلے کا حل نہیں ویسے بھی دونوں ممالک کے درمیان اصل مسئلہ کشمیر ہے جو جنگ سے نہیں بیٹھ کر ہی حل ہوسکتا ہے ۔اس کے لئے ہمیں دوستانہ ماحول پیدا کرنا ہوگا پاکستان اور ہندوستان کی عوام کے بیچ جو نفرت ہے اس کو ختم کرنا ہوگا ۔بطور پاکستان میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان نے آپریشن سندور میں پاکستان کے ساتھ زیادتی کی ہے اور آج بھی جنگ کا خطرہ موجود ہے ۔ میں دونوں ممالک کو مشورہ دوں گا کہ وہ جنگ بند ی کی طرف آئیں او راپنے تعلقات کو بہتر بنائیں ۔