جبری و خطرناک مشقت ، چائلڈ لیبرمیں کم عمر افراد کی ملازمت پر سخت سزائیں تجویز

20 جولائی ، 2025

لاہور ( آصف محمود بٹ) جبری مشقت، چائلڈ لیبر، خطرناک مشقت میں کم عمر افراد کی ملازمت پر سخت سزائیں تجویز۔صنعتوں میں کام کرنے والوں پر جسمانی تشدد یا دھمکی کے ذریعے مطالبات منوانے کا عمل بھی قابل تعزیر جرم ہوگا ۔ پنجاب حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور بین الاقوامی لیبر قوانین سے ہم آہنگ ایک جامع قانونی فریم ورک "پنجاب لیبر کوڈ 2025ء" نافذ کرنے جا رہی ہے۔ اس انقلابی قانون میں جبری مشقت، بچوں سے مزدوری، غیر محفوظ کام کے حالات، صنعتی دباؤ اور کم عمر افراد کو خطرناک کاموں میں لگانے کے خلاف سخت سزائیں تجویز کی گئی ہیں،ماہرین کی رائے ہے کہ عدالتی احتساب کا ایک مضبوط نظام قائم کیا گیا ہےتاہم اصل چیلنج اس قانون کے مؤثر نفاذ کا ہے ۔’’جنگ‘‘ کو ملنے والے دستاویزات کے مطابق لیبر انسپکٹرز اور بعض یونین سے متعلقہ معاملات میں رجسٹرار کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ مجسٹریٹ فرسٹ کلاس یا لیبر کورٹ میں کسی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کاروائی کا آغاز کر سکیں گے۔