فنانس بل پر تحفظات، کراچی اورلاہور سمیت کئی شہروں میں کاروبار بند

20 جولائی ، 2025

اسلام آباد، کراچی، لاہور(اسٹاف رپورٹر، ایجنسیاں) فنانس بل کے معاملے کراچی، حیدرآباد، لاہور،کوئٹہ سمیت کئی شہروں میں ہڑتال کی گئی اور کاروبار بند رہا، ایف بی آر کو دئیے گئے اضافی اختیارات کے خلاف ہڑتال کی کال پر تاجر دو دھڑوں میں تقسیم رہے جسکے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور میں کاروبار زندگی معمول کے مطابق جاری رہا اور تمام بڑی مارکیٹیں و اسٹورز کھلے رہے، کراچی میں جوڑیا بازار،بولٹن مارکیٹ، اجناس منڈی،کپڑا بازار،جامع کلاتھ ،الیکٹرونکس مارکیٹ سمیت اہم مارکیٹیں بند رہیں ، تاجر رہنما و کراچی چیمبر کے صدر محمد جاوید بلوانی اور لاہور کے تاجر رہنما حاجی مقصود بٹ کا کہنا ہے کہ فنانس ایکٹ کاروبار دشمن، ٹیکس دہندگان میں خوف، بد اعتمادی کی فضا پیدا ہوئی، ایف بی آر کو ناجائز اختیار دئیے جارہے ہیں۔ زبردستی کا کوئی قانون قبول نہیں کریں گے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی چیمبر کی اپیل پرفنانس ایکٹ کے خلاف کراچی میں کامیاب ہڑتال کی گئی،تمام اہم اور بڑی مارکیٹیں بند رہیں ،ہڑتال کی اہم بات یہ ہے کہ کراچی کی فروٹ اور سبزی منڈی بھی ہڑتال کی وجہ سے بند رہیں ،تاہم رہائشی علاقوں کی مارکیٹیں اور شاپنگ سینٹرز کھلے نظر آئے ،کراچی چیمبر کے صدر جاوید بلوانی نے ہڑتال کے بارے کہا کہ مارکیٹوں، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی مکمل بندش نے پاکستان کے کاروباری طبقے کی معاشی یکجہتی اور اجتماعی مزاحمت کا طاقتور پیغام دیا ہے۔صدر کے سی سی آئی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہڑتال بغاوت نہیں بلکہ تاجر برادری کے وسیع تر تحفظات کو دورکرنے میں حکومت کی ناکامی کے جواب میں اختیار کیا گیا آخری راستہ تھا کیونکہ بار بار اپیلوں کے باوجود فنانس ایکٹ 2025-26 میں ایسی کاروبار دشمن دفعات شامل کی گئیں جن سے ٹیکس دہندگان میں خوف، غیر یقینی اور بے اعتمادی کی فضا پیدا ہوئی۔ صدر کے سی سی آئی نے واضح طور پر کہا کہ 19 جولائی کی ہڑتال صرف پہلا قدم تھا۔انہوں نے خبردار کیا اگر اگلے ہفتے تک کوئی ٹھوس پیش رفت یا تحریری یقین دہانی نہیں ملی تو ہم ملک بھر سے ممبران،اسٹیک ہولڈرز اور چیمبرز آف کامرس کے ساتھ فوری مشاورت کرینگے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جا سکے۔